عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
روایت کیا ہے اور اس کے رجال صحیح ہیں نیز انہی سے روایت ہے کہ رسو ل اﷲ ﷺنے فرمایا کہ میری اس مسجدمیں نماز پڑھنا مسجد ِ حرام کے علاوہ باقی مساجد میں ہزار نماز پڑھنے سے افضل ہے اور مسجد حرام میں نماز پڑھنا میری اس مسجد میں ایک لاکھ نماز پڑھنے سے افضل ہے اس کو احمد وبزاروابن حبان نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے اور اس کی اسناد شرط شیخین پر ہیں۔پہلی روایت کے مطابق مسجد حرام کی نماز مسجد نبوی کے علاوہ کسی اور مسجد کی نماز سے ایک لاکھ درجہ افضل ہے اور دوسری روایت کے مطابق دس کروڑ نماز کے برابر ہے ۳؎ اور ایک روایت کے مطابق مسجد حرام کی ایک نماز مسجد نبوی کی ہزار نمازوں کے برابر ہے ۴؎ (۲) اس بارے میں علما کا اختلاف ہے کہ ان دونوں مسجدوں میں نماز کے ثواب کا کئی گناہو نا فرائض کے ساتھ مخصوص ہے یا نوافل کو بھی شامل ہے۔ احناف ومالکیہ کے نزدیک ثواب کا کئی گناہ ہونا فرائض کے ساتھ مخصوص ہے اور نوافل کا گھر میں پڑھنا قولی وفعلی نص کی وجہ سے افضل ہے۔ شافعیہ نے کہا ہے کہ یہ افضلیت نوافل کو بھی شامل ہے اگرچہ نوافل کا گھر میں ادا کرنا ان کے نزدیک اتباعِ سنت کی وجہ سے افضل ہے اوراسی طرح افضلیت کافرائض ونوافل دونوں کو شامل ہونا مردوں کے حق میں مخصوص ہے عورتوں کے لئے یہ افضلیت نہیں ہے جیسا کہ فتح القدیر میں اس کی تحقیق کی ہے اور کہا ہے کہ یہ اس لئے ہے کہ جب ایک عورت نے آپ ﷺ کے ساتھ جماعت میں شامل ہونے کے بارے میں دریافت کیا تو رسول اﷲ ﷺ نے اس کو فرمایا کہ وہ اپنے گھر میں نماز پڑھا کر ے حالانکہ عورتوں کے لئے مسجد میں جانا جائز تھا ۵؎