عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
(۴)طواف کو داہنی طرف سے شروع کرنا۔…(۵)طواف حطیم کے باہر سے کرنا۔ (۶)سات چکر پورے کرنا پس اکثر حصہ سے زائد چکر یعنی آخری تین چکر واجب ہیں ۔ (۷)طواف کے بعد نماز دوگانہ طواف ادا کرنا ۷؎ (ان سب شرائط و ارکانِ واجبات کی تشریح اور طواف کے سنن ومستحبات، محرمات ومکروہات وغیرہ کا مفصل بیان طوافِ مطلق اور اس کی اقسام کے بیان میں گزرچکا ہے وہاں ملاحظہ فرمائیں ،مؤلف) فائدہ : (۱)ِ طوافِ زیارت اور رمی و حلق میں ترتیب یعنی ِ طوافِ زیارت کا ان دونوں کے بعد واقع ہونا اور اسی طرح ِ طوافِ زیارت اور حلق میں ترتیب یعنی حلق کے بعد ہونا سنت ہے واجب نہیں ہے حتیٰ کہ اگر کسی شخص نے رمی اور حلق سے پہلے ِ طوافِ زیارت کرلیا تو اس پر کچھ جزا واجب نہیں ہے البتہ اس نے سنت کی مخالفت کی اس لئے ایسا کرنا مکروہ ہے۔ (۲) ِ طوافِ زیارت کو فاسد کرنے والی کوئی چیز نہیں ہے البتہ مرتد ہونے یعنی دین اسلام سے پھر جانے سے یہ طواف باطل ہوجاتا ہے جیسا کہ دیگر سب اعمال باطل ہوجاتے ہیں اور موت سے پہلے تک یہ فوت نہیں ہوتا (یعنی مرنے سے پہلے پہلے جس وقت بھی ادا کرلے گا ادا ہوجائے گا ) اور اس کا کوئی بدل نہیں ہے یعنی کوئی جزا بطور بدل جائزوکافی نہیں ہوتی اس لئے کہ یہ حج کا رکن ہے رکن کا کوئی بدل جائز و کافی نہیں ہوتا مگر ایک صورت میں یعنی جبکہ وقوفِ عرفہ کے بعد طوافِ زیارت سے پہلے مرجائے اور حج پورا کرنے کی وصیت کرجائے تو اس کے طوافِ زیارت کے لئے بدنہ ذبح کرنا واجب ہے اور اس کا حج جائز ہے یعنی اس کا حج صحیح و کامل ہوجاے گا پس جب کوئی شخص وقوفِ عرفہ ادا کرنے