کتاب الصلوۃ |
دیث کی م |
|
ایک دفعہ حضرت عمرنے(زلزلہ کے موقع پر)لوگوں سےفرمایا :اے مدینہ والو! بے شک تم لوگوں پر زلزلہ آیا ہے، اورزلزلہ بکثرت سود کھانے سےآتا ہے،اور بے شک بارش کا نہ ہونا بُرے قاضی اور ظالم حکمرانوں کی وجہ سے ہوتا ہے،اور بے شک جانوروں کا مرنااور پھلوں کا کم ہوجانا صدقہ میں کمی کی وجہ سے ہوتا ہے،پس کیا تم باز آنےوالے ہو؟ورنہ عمر تمہارے درمیان سے نکل جائے گا۔يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ، إِنَّكُمْ قَدْ رَجَفْتُمْ، وَالرَّجْفُ مِنْ كَثْرَةِ الرِّبَا، وَإِنَّ قُحُوطَ الْمَطَرِ مِنْ قُضَاةِ السُّوءِ وَأَئِمَّةِ الْجَوْرِ، وَإِنَّ مَوْتَ الْبَهَائِمِ وَنُقْصَانَ الثَّمَرِ مِنْ قِلَّةِ الصَّدَقَةِ، فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ، أَوْ لَيَخْرُجَنَّ عُمَرُ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِكُمْ؟۔ (العقوبات لابن ابی الدّنیا:355)بارشیں نہ ہونا یا پیداوار نہ ہونا قیامت کی علامات میں سے ہے: ایک اَعرابی نے نبی کریمﷺسے قیامت کے بارے میں سوال کیا ، آپﷺنے فرمایا: جس سے پوچھا جارہا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا، لیکن اُس کی علامات یہ ہیں :بازاروں کا قریب قریب ہوجانا،بارش ہونے کے باوجودپیداوار کا نہ ہونا،غیبت کا پھیل جانا، زنا سے پیدا ہونے والی اولاد کا پھیل جانا،مالدار کی تعظیم و عزت کرنا، مساجد میں فاسقوں اور فاجروں کا آوازیں بلند کرنا،گناہ گاروں کا نیکوکاروں پر غالب آجانا۔ پس جس نے یہ زمانہ پالیا تو اُسے چاہیئے کہ اپنے دین کو چپکے سےلے کر کہیں چھپ جائے اور اپنے گھر کا ٹاٹ بن جائے ۔مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، وَلَكِنَّ أَشْرَاطَهَا تَقَارُبُ الْأَسْوَاقِ، وَمَطَرٌ وَلَا نَبَاتَ، وَظُهُورُ الْغِيبَةِ، وَظُهُورُ أَوْلَادِ الْغَيَّةِ، وَالتَّعْظِيمُ لِرَبِّ الْمَالِ، وَعُلُوُّ أَصْوَاتِ الْفُسَّاقِ فِي الْمَسَاجِدِ، وَظُهُورُ أَهْلِ الْمُنْكَرِ عَلَى أَهْلِ الْمَعْرُوفِ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ الزَّمَانَ فَلْيَرُغْ بِدِينِهِ، وَلْيَكُنْ حِلْسًا مِنْ أَحْلَاسِ بَيْتِهِ۔(الفتن لنعیم :1796)