کتاب الصلوۃ |
دیث کی م |
|
فاسد کردہ نفل:یعنی اُن نوافل کی قضاء کرنا جن کو شروع کرکے فاسد کردیا گیا ہو ، اِن اوقاتِ مکروہہ میں اُن کی قضاء پڑھنے سے واجب اداء ہوجائے گا لیکن کراہت کے ساتھ، یعنی گناہ گار ہوگا اور غیر مکروہ وقت میں لوٹانا واجب ہوگا۔ نذر ِ مقیّدکی نماز: یعنی کسی نے اِن اوقاتِ ثلاثہ مکروہہ میں نماز پڑھنے کی نذر مانی ہو اور وہ اِن اوقات میں اپنی نذر کو پورا کرے تو نذر پوری ہوجائے گی ، لیکن یہ نماز مکروہ تحریمی ہوگی، اِس لئے پڑھنی نہیں چاہیئے ، بلکہ دوسرے اوقات میں نذر پوری کرنی چاہیے ۔لیکن اگر نذرِ مطلق ہو مثلاً مطلقاً نماز کی نذر مانی ہو ، اِن اوقات کی قید نہ لگائی ہو تو اِن اوقات میں پڑھنے سے نذر پوری ہی نہیں ہوگی ، لہذا دوسرے اوقات میں پڑھنا ضروری ہوگا۔(عُمدۃ الفقہ:2/21 ،22)دوسری قسم : اوقاتِ مکروہہ للنوافل : اس میں دو وقت ہیں:(1)صبح صادق سےطلوعِ آفتاب تک ۔ (2)عصر کے بعد سے غروبِ آفتاب تک۔ فائدہ : غربِ آفتاب کے بعد مغرب کی نماز سے قبل نفل پڑھنا بھی مکروہ ہے، اِس لئے کہ اس سے مغرب کی نماز میں تاخیر لازم آتی ہے ،یہی وجہ ہے کہ امام شافعی کے علاوہ بقیہ تمام ائمہ مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھنے کے قائل نہیں ہیں ۔ اِسی طرح خطبہ جمعہ کے وقت بھی نفل پڑھنا مکروہ ہے اور کیونکہ اس سے خطبہ کا سننا متاثر ہوتا ہے ۔نیز عیدین کی نماز سے پہلے خواہ گھر میں ہو یا عید گاہ میں نفل پڑھنا مکروہ ہے اور عیدین کی نماز کے بعد عید گاہ میں نفل پڑھنا مکروہ ہے ، البتہ گھر واپس آکر پڑھ سکتے ہیں ۔