کتاب الصلوۃ |
دیث کی م |
|
جمہور ائمہ اربعہ :نماز کی طرح سجدۂ تلاوت کے لئے بھی وضو شرط ہے ۔ امام بخاری ابن ِ جریر طبری عامرِ شعبی:وضوشرط نہیں۔(تحفۃ الالمعی :1/185)(درسِ ترمذی :1/155)سجدہ تلاوت کے اسباب : سجدہ تلاوت کے تین اسباب ہیں : (1)تلاوت۔ (2)سماع۔ (3)اقتداء۔(البنایۃ:2/661) اب اِن تینوں اسباب کی کچھ تفصیلات ملاحظہ فرمائیں :تلاوت”یعنی آیتِ سجدہ کی تلاوت کرنا“ : آیتِ سجدہ کی تلاوت سے سجدہ لازم ہوتا ہےجبکہ ایسا شخص کرے جو نماز کی صلاحیت رکھتا ہو ، پس کافر، نابالغ،مجنون اور حیض و نفاس والی عورت پر سجدہ تلاوت لازم نہیں ہوگا، کیونکہ ان کے اندر وجوبِ صلاۃ کی صلاحیت نہیں ہے،کیونکہ کفر ،نابالغی ،حیض اور نفاس، یہ سب ایسی حالتیں ہیں کہ ان میں نماز نہ اداءً لازم ہوتی ہے اور نہ قضاءً۔ہاں! اگر بے وضو یا جنبی شخص آیتِ سجدہ کی تلاوت کریں تو اُن پر سجدہ لازم ہوجائے گا ،کیونکہ وہ وجبِ صلاۃ کی قضاءً صلاحیت رکھتے ہیں ۔(شامیہ:2/107)(عُمدۃ الفقہ:2/389) سجدہ تلاوت کا زبان سے تلفظ ضروری ہے، پس آیتِ سجدہ کو محض دیکھنے والے، لکھنے والےیا آیتِ سجدہ کے ہجے کرنے والےپر سجدہ لازم نہیں ۔(عالمگیری:1/132،133)(شامیہ:1/109)(طحطاوی علی المراقی:481) تلاوت کرنے والے کیلئے خود سننا لازم نہیں ، پس بہرا شخص بھی اگر تلاعت کرے تو اُس پر سجدہ تلاوت لازم ہوگا۔(عالمگیری:1/133)