کتاب الصلوۃ |
دیث کی م |
|
صرف آیتِ سجدہ کو سجدہ کی غرض سے پڑھنا : یعنی اگر کوئی ایک یا کئی آیاتِ سجدہ صرف سجدہ کرنے کی غرض سے پڑھے اور آگے پیچھے تلاوت نہ کرے تو یہ طریقہ درست ہے یا نہیں ، اِس میں اختلاف ہے : امام ابوحنیفہ: بغیر کراہت کے جائز ہے ،اِس لئے کہ یہ تو سجدہ کرنے کی طرف راغب ہونا اور اُس کی جانب آگے بڑھنا ہے لہٰذ امکروہ کیسے ہوسکتا ہے۔ ائمہ ثلاثہ: مکروہ ہے ، اِس لئے کہ یہ تلاوت کی غرض سے پڑھنا نہیں ہوگا ، بلکہ اِس کا تو مقصد سجدہ کرنا ہی ہوجائے گا ۔(الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ:24/229)آیتِ سجدہ کو ترک کردینا : تلاوت کے دوران آیتِ سجدہ کو ترک کرکے آگے بڑھ جانا درست ہے یا نہیں ، اِس میں اختلاف ہے: امام مالک: اگر کوئی وضو سے ہو اور مکروہ وقت بھی نہ ہو تو آیتِ سجدہ کو ترک کردینا مکروہ ہے،اِس لئے کہ یہ اعراض کرنے کے مُشابہ ہے، جو درست نہیں ۔اور اگر کوئی وضو سے نہ ہو یا مکروہ وقت ہو تو بلاکراہت جائز ہے ، اِس لئے کہ ابھی سجدہ کرنا ممکن نہیں۔ ائمہ ثلاثہ : آیتِ سجدہ کو چھوڑ کر آگے بڑھ جانا مکروہ ہے ، اِس لئے کہ اِس میں سجدے سے اعراض کرنا لازم آتا ہے، جو ظاہر ہے کہ درست نہیں۔(الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ:24/229)سجدہ تلاوت کیلئے وضو شرط ہے یا نہیں : سجدہ تلاوت کیلئے وضو شرط ہے یا نہیں ، اِس میں اختلاف ہے :