کتاب الصلوۃ |
دیث کی م |
|
حضرت عطاء بن یسار فرماتے ہیں :قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ مساجد میں فاسق و فاجر کی آواز بلند ہوجائے گی ، بارش ہوگی لیکن غلّہ اناج نہ اُگے گا ، مسجد کو راستہ بنالیا جائے گا ،اور زانیوں کی اولاد کی کثرت ہوگی ۔مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ عُلُوُّ صَوْتِ الْفَاسِقِ فِي الْمَسَاجِدِ، وَمَطَرٌ وَلَا نَبَاتٌ، وَأَنْ تُتَّخَذَ الْمَسَاجِدُ طُرُقًا، وَأَنْ تَظْهَرَ أَوْلَادُ الزُّنَاةِ۔(مصنف عبد الرزاق:5138) لوگوں پر ایسا زمانہ آئےگا کہ آسمان بارش برسائے گا لیکن زمین غلہ و اناج نہ اُگائے گی۔يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ تُمْطِرُ السَّمَاءُ مَطَرًا وَلَا تُنْبِتُ الْأَرْضُ۔(مستدرکِ حاکم:8567) حدیث میں ہے :دجال کے آنے سے پہلے دھوکے اور فریب کے چند سال آئیں گے، جن میں بارش تو بکثرت ہوگی لیکن غلّہ و اناج کم اُگے گا،ان میں جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا، خائن کو امانت دار اور امانت دار کو خائن سمجھا جائے گا، اس زمانہ میں امور عامہ کے بارے میں کمینہ اور حقیر آدمی بات چیت کرتا ہوگا۔يَكُونُ أَمَامَ الدَّجَّالِ سِنُونَ خَوَادِعٌ، يَكْثُرُ فِيهَا الْمَطَرُ، وَيَقِلُّ فِيهَا النَّبْتُ، وَيُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ، وَيُصَدِّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ، وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ، وَيُخَوَّنُ فِيهَا الْأَمِينُ، وتَنْطِقُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ۔(طبرانی کبیر:18/68) حضرت اسماء بنت یزید فرماتی ہیں کہ نبی کریمﷺمیرے گھر میں تشریف فرماتھے ، آپﷺنے دجال کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:دجال کے آنے سے پہلے تین (سخت ترین )سال ہوں گے : پہلے سال آسمان اپنی تہائی بارش روک لے گا اور زمین اپنی ایک پیدا وار روک لے گی ، دوسرے سال آسمان اپنی دو تہائی بارش روک لے گا اور زمین بھی اپنی دو تہائی پیداوار روک لے گی ، اور تیسرے سال آسمان اپنی مکمل بارش روک لے گا اور زمین بھی اپنی پوری پیداوار روک لے گی جس سے کُھر رکھنے والے داڑھ رکھنے