کتاب الصلوۃ |
دیث کی م |
|
(یعنی کِیل کی طرح مسجدوں میں جمےہوئے ہوتے ہیں )اور اُن کے ہمنشین فرشتے ہوتے ہیں ، پس جب وہ فرشتے کبھی اُن لوگوں کو مسجد میں نہیں پاتے تو ایک دوسرے سے اُن کے بارے میں دریافت کرتے ہیں ، اگر وہ بیمار ہوتے ہیں تو اُن کی عیادت کرتے ہیں اور اگر وہ کسی حاجت میں پھنسے ہوتے ہیں تو اُن کی مدد کرتے ہیں ۔إِنَّ لِلْمَسَاجِدِ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ أَوْتَادًا، جُلَسَاؤُهُمُ الْمَلَائِكَةُ، فَإِنْ فَقَدُوهُمْ سَأَلُوا عَنْهُمْ، فَإِنْ كَانُوا مَرْضَى عَادُوهُمْ، وَإِنْ كَانُوا فِي حَاجَةٍ أَعَانُوهُمْ۔(ابن ابی شیبہ :34612)مسجد شیطان سے بچنے کے لئے ایک مضبوط قلعہ ہے: حضرت معاذ بن جبلفرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺنے اِرشاد فرمایا :بے شک شیطان انسان کا بھیڑیا(دشمن) ہے جیسے بکریوں کا بھیڑیا (دشمن)ہوتا ہے، وہ (موقع پاتے ہی)الگ ہونے والی اور کنارے ہونے والی بکری کو پکڑلیتا ہے، پس تم گھاٹیوں سے بچو اور اپنے اوپر جماعت کو ،اکثریت کو اور مسجد کولازم کرلو۔إِنَّ الشَّيْطَانَ ذِئْبُ الْإِنْسَانِ كَذِئْبِ الْغَنَمِ،يَأْخُذُ الشَّاةَ الْقَاصِيَةَ وَالنَّاحِيَةَ،فَإِيَّاكُمْ وَالشِّعَابَ، وَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ وَالْعَامَّةِ وَالْمَسْجِدِ۔(مسند احمد:22029) حضرت عبد الرحمن بن مَعقِل فرماتے ہیں کہ ہم لوگ آپس میں ایک دوسرے سے یہ کہا کرتے تھے:مسجد شیطان سے بچنے کے لئے ایک مضبوط اورمستحکم قلعہ ہے۔كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ الْمَسْجِدَ حِصْنٌ حَصِينٌ مِنَ الشَّيْطَانِ۔ (ابن ابی شیبہ :34613) حضرت علی بن ابی طالبفرماتے ہیں : مسجدیں انبیاء کی مجلسیں ہیں اور شیطان سے حفاظت کا ذریعہ ہیں۔الْمَسَاجِدُ مَجَالِسُ الْأَنْبِيَاءِ وَحِرْزٌ مِنَ الشَّيْطَانِ۔(الجامع لأخلاق الراوی للخطیب البغدادی:2/60)