کتاب الصلوۃ |
دیث کی م |
|
ائمہ ثلاثہ: نمازِ کسوف میں خطبہ نہیں ہے۔(الفقہ علی المذاہب الاربعۃ:1/332)دلائل: اِمام شافعی کی دلیل نبی کریمﷺکا خود اپنا عمل ہے کہ آپ نے نمازِ کسوف کے بعد لوگوں کو خطبہ دیا تھا ،اِس سے معلوم ہوا کہ کسوف کی نماز کے بعد خطبہ دیا جائے گا ۔ ائمہ ثلاثہ کی دلیل یہ ہے کہ نبی کریمﷺنے سورج گرہن کے وقت میں نماز کا حکم دیا ہے ، خطبہ پڑھنے کا کسی حدیث میں ذکر نہیں ، اور نبی کریمﷺنے نمازِ کسوف کے بعد جو خطبہ دیا تھا وہ کسوف کے حکم کو واضح کرنے کیلئے دیا تھا ،نیز اُس غلط فہمی کو دور کرنا مقصود تھا جو حضرت ابراہیم بن محمد ﷺکی وفات کی وجہ سے لوگوں کے ذہن میں پیدا ہوئی تھی اور لوگ زمانہ جاہلیت کے مطابق یہ سوچ رہے تھے کہ سورج گرہن یقیناً کسی بڑی شخصیت کے انتقال کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ (الفقہ الاسلامی و ادلتہ : 2/1432)نمازِکسوف اور خسوف میں جماعت: سورج اور چاند گرہن کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھی جائے گی یا انفرادی طور پر ، اِس میں اختلاف ہے :نمازِ کسوف : نماز ِ کسوف میں جماعت کے مشروع ہونے پر سب کا اتفاق ہے ۔(فتح القدیر : 2/84) مسجد اور عید گاہ دونوں جگہ پڑھنا جائز ہے ، لیکن مسجدِ جامع میں پڑھنا افضل ہے ، اس لئے آپ ﷺ نے بھی نمازِ کسوف مسجد میں اداء فرمائی تھی ۔ (الفقہ الاسلامی و ادلتہ : 2/1432)نمازِ خسوف: