کتاب الصلوۃ |
دیث کی م |
|
بَابُ الرُّكُوعِ رکوع کا لغوی اور اصطلاحی معنی : لغۃ ً : مطلقاً "الانحناء " یعنی جھکنےکےمعنی میں آتا ہے ۔ اصطلاحاً : الانحناء بالظهر و الرأس معاً حتی تبلغ يداہ رکبتيه ۔ یعنی سر اور پیٹھ کے ساتھ اس قدر جھک جانا کہ ہاتھ گھٹنوں تک پہنچ جائیں ۔( الفقہ الاسلامی : 2/840)رکوع کے اندر قابلِ لحاظ امور : ركوع كے اندر مندرجہ ذيل امور كا لحاظ ركها جائے گا: (1)— اوپر کے دھڑکو اتنا جھکائیں کہ کمر اور گردن ایک سطح پر آجائے ، نہ اس سے زیادہ نہ اس سے کم ۔ (2)— رکوع کی حالت میں گردن کو اتنا نہ جھکائیں کہ ٹھوڑی سینہ سے ملنے لگے اور نہ اتنا اوپر رکھیں کہ گردن کمر سے بلند ہوجائے، بلکہ کمر اور گردن ایک سطح پررکھیں ۔ (3)— دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھ کر انگلیوں سے گھٹنوں کو پکڑلیں ،اس طرح کہ انگلیاں کھلی ہوئی ہوں ، یعنی ہر دو انگلیوں کے درمیان فاصلہ ہو۔ (4)— رکوع میں پاؤں کو سیدھا رکھیں ، ان میں خم نہیں ہونا چاہئے۔ (5)— رکوع کی حالت میں کلائیاں اور بازو سیدھے تنے ہوئے اور پہلو سے جدا رہنے چاہئیں۔ (6)— دونوں پاؤں کے ٹخنے ایک دوسرے کے بالمقابل رہنے چاہئیں۔