کتاب الصلوۃ |
دیث کی م |
|
تنبیہ :فقہائے احناف کا مسلک اس بارے میں استحباب کا ہے ، اِباحت کا نہیں ، لہٰذا بعض شرّاحِ حدیث نے احناف کا جو مسلک ”مباح ہونا“ ذکر کیا ہے وہ درست نہیں ۔ (رد المحتار : 2/181) (تکملہ فتح الملہم : 3/585)ناخن اور بال کاٹنے کا حکم کس کیلئے ہے : یہ استحباب صرف اُن لوگوں کے لئے ہے جن کا قربانی کا ارداہ ہو ، خواہ واجب قربانی کا ارادہ ہو یا نفلی کا ۔ نیز یہ حکم اُس وقت ہے جبکہ بال اور ناخن کاٹے ہوئے چالیس دن پورے نہ ہوتے ہو ں ، ورنہ بال اور ناخن کاٹنا ضروری ہے اور نہ کاٹنا حرام ہے ۔ (احسن الفتاوی : 7/497) (رد المحتار : 2/181)بال اور ناخن نہ کاٹنے کی حکمت: حجاجِ بیت اللہ کے ساتھ مشابہت اختیار کرنا ، کیونکہ وہ بھی بحالتِ احرام یہ کام نہیں کرتے ۔ اضحیہ دراصل قربانی کرنے والے کی جان کا فدیہ ہوتا ہے ، پس ناخن وغیرہ کاٹنے سے روکا گیا تاکہ تمام اجزاء کے ساتھ فدیہ ہو۔ (مرقاۃ المفاتیح : 3/1081)(تکملہ فتح الملہم : 3/586)