کتاب الصلوۃ |
دیث کی م |
|
امام شافعی : طلوع شمس کے بعد عید کی دو رکعتوں اور دو خطبوں کے بقدر وقت گزرجانے کے بعد عید کی نماز پڑھی جاسکتی ہے۔(الفقہ علی المذاہب:1/647،648)(البنایہ : 12/27)دوسرا اختلاف : قربانی کا وقت کب تک رہتا ہے؟ اصحابِ ظواہر : ذی الحجہ کے پورے مہینے یعنی ہلالِ محرم نظر آنے تک ۔ علامہ ابن سیرین : صرف ایک دن یعنی دس ذی الحجہ ۔ شوافع و حسن بصری : چار دن یعنی یوم النحر اور ایام ِ تشریق کے تین دن ۔ احناف ، مالکیہ اور حنابلہ : تین دن یعنی دس ، گیارہ اور بارہ ذی الحجہ کے غروبِ شمس تک ۔ (البنایہ : 12/26)(درسِ مشکوۃ : 350)(الفقہ علی المذاہب الاربعہ : 1/647 ،648)تیسرا اختلاف :درمیان میں کس کس وقت قربانی کی جاسکتی ہے ؟ امام مالک : صرف دن میں قربانی جائز ہے ، رات میں قربانی نہیں ہوگی ۔ ائمہ ثلاثہ : دن میں قربانی کرنا افضل ہے ،البتہ رات کو بھی قربانی ہوجاتی ہے ۔ (الفقہ علی المذاہب الاربعۃ : 1/648)(بدایۃ المجتہد: 2/200) فائدہ : یوم النحر کی شب یعنی 9 اور 10ذی الحجہ کی درمیانی شب جس کو شبِ عید الاضحیٰ بھی کہا جاتا ہے،اس میں کسی کے نزدیک قربانی جائز نہیں ، اس لئے کہ اس وقت کسی کے نزدیک بھی قربانی کا وقت شروع نہیں ہوتا ۔13 ذی الحجہ کی شب کو شوافع ، اصحابِ ظواہر اور حضرت حسن بصری کے نزدیک قربانی درست ہے، اور کسی کے یہاں درست نہیں ۔ اور درمیان کی راتیں یعنی 11 اور12ذی الحجہ کی شب میں امام مالک کے نزدیک جائز نہیں ، باقی سب کے نزدیک جائز ہے ۔