کتاب الصلوۃ |
دیث کی م |
|
امام احمد بن حنبل: جائز ہے ۔(الفقہ الاِسلامی:1/686)(الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ:7/183)اوقاتِ مکروہہ میں مکہ مکرمہ میں نوافل پڑھنا : امام شافعی اور احمد : مکہ مکرمہ میں اوقاتِ مکروہہ کے اندر نوافل جائز ہیں ۔ امام ابوحنیفہ اور مالک: جائز نہیں ۔ (تحفۃ الالمعی : 1/492)جمعہ کے دن اِستواءِ شمس کے وقت نماز پڑھنا مکروہ ہے یا نہیں : جمعہ کے دن زوال کے مکروہ وقت میں نماز پڑھنا کیسا ہے ، اِس میں اختلاف ہے : اِمام شافعی وابویوسف: جمعہ کے دن یہ وقت مکروہ نہیں ، اِس میں نماز پڑھ سکتے ہیں ۔ طرفین ، مالکیہ اور حنابلہ : جمعہ اور غیر جمعہ برابر ہیں ، یعنی عام دنوں کی طرح جمعہ کے دن بھی اِستوائے شمس کے وقت نماز پڑھنا مکروہ ہے۔(مرعاۃ المفاتیح :3/471)(مرقاۃ المفاتیح:2/828)خروجِ خطیب الی المنبر کے بعد تحیۃ المسجد پڑھنا : جب اِمام خطبہ دینے کیلئے منبر پر آکر بیٹھ جائے اورپھر کوئی مسجد میں داخل ہو تو وہ تحیۃ المسجد پڑھے گا یا نہیں اِس میں اختلاف ہے: احناف و مالکیہ: نہیں پڑھ سکتا ، اِس لئے کہ اِرشادِ نبوی ہے : ”إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ يَوْمَ الجُمُعَةِ: أَنْصِتْ، وَالإِمَامُ يَخْطُبُ، فَقَدْ لَغَوْتَ“(بخاری:934)تو جب کسی کو خاموش کرانا منع ہے تو نماز پڑھنا کیسے جائز ہوسکتا ہے۔