کتاب الصلوۃ |
دیث کی م |
|
بَابُ السَّهْوِ سہو،شک ،ظن، ظنِ غالب اور وہم کے معانی : ”سہو“ بھول جانے کو کہتے ہیں ۔”شک“کسی چیز کے ہونے نہ ہونے میں تردّد کو کہا جاتا ہےبشرطیکہ کسی ایک جانب کو ترجیح اور غلبہ نہ ہورہا ہو۔اور اگر تردّد کے وقت کسی ایک جانب ترجیح اور غلبہ حاصل ہوجائے تو اُس کو ”ظن“ کہا جاتاہے، اور اگر وہ ظن بہت زیادہ ہو لیکن یقین کے درجہ تک نہ پہنچا ہو تو اس کو ”غلبہ ظن“یعنی ”ظنِّ غالب “کہتے ہیں اور جو جانب مغلوب ہو اُس کو ”وہم“ کہا جاتا ہے۔(عُمدۃ الفقہ:2/360) پس خلاصہ یہ نکلا : سہو : زوال الصورۃ عن المدرکۃ مع بقائھا فی الحافظہ ۔ شک: ھو التردّد بین النقیضین بلاترجیح لأحدھما۔وقیل: مایستوی طرفاہ ۔ ظن: أحد طرفی الشک بصفۃ الرجحان۔ ظنِّ غالب: والراجحة ظن، فإن زاد الرجحان بلا جزم فهو غلبة الظن۔ وہم: الوھم یُطلق علی الاِعتقاد المرجوح۔ (قواعد الفقہ)(شامیہ :2/77)سجدہ سہو کا معنی : سجدہ سہو کی اِصطلاحی تعریف یہ ذکر کی گئی ہے: