کتاب الصلوۃ |
دیث کی م |
|
تکبیر کے بعد ثناء پڑھی جائے گی یا نہیں : اِس مسئلہ کی تفصیل پہلے بھی گزری ہے کہ نماز کی ابتداء سورۃ الفاتحہ سے ہوگی یا ثناء بھی پڑھیں گے: امام مالک : تکبیر اور فاتحہ کے درمیان کوئی ذکر مسنون نہیں ، پس ثناء نہیں پڑھی جائے گی ۔ ائمہ ثلاثہ : ثناء پڑھی جائے گی ۔(الفقہ الاِسلامی :2/875)”آمین “ کا معنی : یہ اسمِ فعل بمعنی امرحاضر ہے ، ” اِسْمَعْ وَاسْتَجِبْ “ کے معنی میں ہے، یعنی اے اللہ! سن لیجئے اور قبول فرمالیجئے ۔یا ” كَذَلِكَ، فَلْيَكُنْ “ کے معنی میں ہے ، یعنی اِسی طرح ہونا چاہیئے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ہے۔چنانچہ حضرت ابوہریرہکی ایک روایت میں اِس کی صراحت ہے۔(مصنّف عبد الرزاق:2650) یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ”اللَّهُمَّ أَمِّنَا بِخَيْرٍ “ہے یعنی اے اللہ !ہمارے ساتھ خیر و بھلائی کا اِرادہ فرمالیجئے۔(مرقاۃ المفاتیح :2/686)آمین کہنے کی فضیلت : حضرت ابوہریرہ سے مَروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اِرشاد فرمایا: جب کوئی تم میں سے آمین کہے اور فرشتوں نے بھی اسی وقت آسمان پر آمین کہی ۔ اس طرح ایک کی آمین دوسرے کے آمین کے ساتھ مل گئی تو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ: آمِينَ، وَقَالَتِ المَلاَئِكَةُ فِي السَّمَاءِ: آمِينَ، فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ۔(بخاری:781)