کتاب الصلوۃ |
دیث کی م |
|
نوٹ: واضح رہے کہ ان میں سے پہلے دو یعنی فاسق اور بدعتی کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے ، وہ بھی اُس وقت جبکہ دوسری جگہ متبادل نہ ہو اور ان کے ہٹانے پڑ قادر نہ ہو یا ہٹانے کی صورت میں فتنہ پیدا ہونے کا اندیشہ ہو ، ایسی صورت میں اکیلے نماز پڑھنے سے اُن کے پیچھے نماز پڑھ لینا اولیٰ ہے ، اور اِس صورت میں مقتدیوں پر کراہت بھی نہ ہوگی ۔اس کے علاوہ بقیہ تمام افراد میں یا تو جہالت کے غلبہ کی وجہ سے کراہت ہے ، جیساکہ عموماً غلام ، بدّو اور ولد الزّناوغیرہ کے اندر ہوتی ہے اور یا لوگوں کے کراہیت محسوس کرنے کی وجہ سے کراہت ہے، جیسے أبرص کے اندر ہوتی ہے۔(شامیہ : 1/559 تا562)(عُمدۃ الفقہ:2/201 ،202) نیز یہ بھی واضح رہنا چاہیئے کہ مذکورہ تمام افراد میں اگر کراہت کی علّت ختم ہوجائے مثلاً: نابینا شخص علم اور مرتبہ میں بینا سے زیادہ افضل ہو اور وہ نجاست وغیرہ سے اجتناب بھی کرتا ہو ، اِسی طرح ولد الزّنا اور أعرابی شخص علمی شرف اور مقام کا حامل ہوجائے وغیرہ وغیرہ ، تو ان کی اِمامت مکروہ نہ رہے گی ، اِس لئے کہ علّتِ کراہت باقی نہ رہی ۔ (شامیہ : 1/560)مکروہاتِ اِمامت: (1)فاسق کا امام بننا ۔(2)بدعتی کا امام بننا ۔(3)نابینا کا امام بننا۔ہاں اگر اعلم القوم ہو تو جائز ہے ۔(4)لوگوں کے ناپسند کرنے کے باوجود امامت کرنا ، جبکہ لوگوں کے ناراض ہونے کی کوئی جائز وجہ بھی ہو۔ (5)نماز کے اندر قدرِ سنت سے زیادہ تطویل کرنا ۔(6)اس مقصد سے نماز میں تطویل کرنا کہ کسی کو جماعت یا رکعت مل جائے ۔(7) بہت زیادہ غلطیاں کرنے والے کا امام بننا ۔(8) ایسے شخص کاامام بننا جو بعض حروف کو صحیح اداء کرنے پر قادر نہ ہو ۔(9) دیہاتی شخص کا امام بننا ۔ البتہ اپنے مثل کی امامت درست ہے ۔ اسی