کتاب الصلوۃ |
دیث کی م |
|
امامِ قاعد کی اقتداء میں مقتدی قائم کا نماز پڑھنا : اس مسئلے کی عقلی طور پر چار صورتیں بنتی ہیں : امام ِ قاعد کی اقتداء کرنا مقتدی ِ قاعد کے لئے : بالاتفاق جائزہے۔ امام ِ قائم کی اقتداء کرنا مقتدی ِ قائم کے لئے : بالاتفاق جائزہے۔ امام ِ قائم کی اقتداء کرنا مقتدی ِ قاعد کے لئے : بالاتفاق جائزہے۔ امام ِ قاعد کی اقتداء کرنا مقتدی ِ قائم کے لئے : یہ صورت مختلَف فیہ ہے : امام مالک و امام محمد : اقتداء درست نہیں ہے ۔ ائمہ ثلاثہ : اقتداء درست ہے ، البتہ طریقہ کار میں اختلاف ہے : احناف و شوافع : قائماً یعنی کھڑے ہوکر اقتداء کی جائے گی ۔ حنابلہ : قاعداً یعنی بیٹھ کر اقتداء کی جائے گی ۔ (تحفۃ الالمعی : 2/186) حنابلہ کے نزدیک قاعداً اقتداء بھی تین شرطوں کے ساتھ کی جاسکتی ہے : ابتداء ہی سے عذر ہو ، عذر ِ طاری نہ ہو ، یعنی دوران ِ نماز طاری نہ ہوا ہو۔ امام راتب (مقررہ امام ) ہو ۔ عذر مرجو الزّوال ہو،یعنی اُس کے صحیح ہونے کی امید ہو ۔ (درس ِ ترمذی : 2/132)امام کی نماز کے باطل ہونے سے مقتدی کی نماز کا حکم : مثلاً نماز کے بعد پتہ چلا کہ امام کو حدث یا جنابت لاحق تھی ، تو کیا مقتدی کو بھی نماز لوٹانی ہوگی یا نہیں ، اس