کتاب الصلوۃ |
دیث کی م |
|
طیبہ کے اندر بہت کثرت سے بیان کیا گیا ہے ، ایک مؤمن کو چاہیئے کہ وہ فرائض کا اہتمام کرتے ہوئے سنن و نوافل میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے، ذیل میں نوافل و سنن کے چند فضائل احادیثِ طیبہ کی روشنی میں ذکر کیے جارہے ہیں ، اللہ تعالیٰ ہمیں اِن فضائل کے حصول کی توفیق نصیب فرمائے۔(آمین)نوافِل کے فضائل : حضرت ابوہریرہنبی کریمﷺکا یہ اِرشاد نقل فرماتے ہیں : نوافل کی وجہ سے بندہ میرے قریب ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس کو اپنا محبوب بنالیتا ہوں ، تو پھر میں اُس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنے، اُس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھے ، اور اُس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ کسی چیز کو پکڑے اور اُس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلے۔ اگر وہ مجھ سے کچھ مانگتا ہے تو میں اس کو عطاء کرتا ہوں اور کسی چیز سے پناہ چاہتا ہے تو میں پناہ دیتا ہوں۔مَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ:كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا، وَإِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ۔(بخاری:6502) اِرشادِ نبوی ہے: قیامت کے دن بندے کے اعمال میں سب سے پہلے نماز کا حساب کیا جائے گا ، اگرنماز اچھی نکل آئی تو وہ شخص کامیاب اور بامراد ہوگا اور نماز بیکار ثابت ہوئی تو وہ نامراد اور خسارہ میں ہوگا ، اور اگر نماز میں کچھ کمی پائی گئی تو اللہ تعالیٰ کا اِرشاد ہوگا : دیکھو اِس بندے کے پاس کہ کیا کچھ نفلیں بھی ہیں کہ جن سے فرضوں کو پورا کردیا جائے؟ اگر نکل آئیں تو اُن سے فرضوں کی تکمیل کردی جائے گی اُس کے بعدپھر اِسی طرح باقی اعمال روزہ زکوۃ وغیرہ کا حساب ہوگا ۔ إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ العَبْدُ يَوْمَ القِيَامَةِ مِنْ عَمَلِهِ صَلَاتُهُ،فَإِنْ صَلُحَتْ فَقَدْ أَفْلَحَ وَأَنْجَحَ،وَإِنْ فَسَدَتْ فَقَدْ خَابَ وَخَسِرَ،فَإِنْ انْتَقَصَ