کتاب الصلوۃ |
دیث کی م |
|
امام ابو حنیفہ :مثلِ ثانی تک رہتا ہے ۔ ائمہ ثلاثہ اور صاحبین :مثلِ اوّل تک باقی رہتا ہے ۔ فائدہ : ظہر اور عصر کے درمیان ”وقتِ مشترک “ (جس میں ظہر اور عصر دونوں نمازیں اداء کی جاسکتی ہوں )کے پائے جانے میں اختلاف ہے ۔ امام مالک اور ابنِ مبارک:مثلِ اوّل کے بعد چار رکعت کا وقت ظہر اور عصر دونوں نمازوں کے لئے مشترک ہے ، چنانچہ اِس وقت میں ظہر پڑھی جائے یا عصر ، دونوں ہی اداء ہوں گی۔ ائمہ ثلاثہ اور جمہور:وقتِ مشترک نہیں ۔(تحفۃ المِراٰۃ فی دُروس المشکوۃ :253) عصر:اِس کے ابتدائی اور انتہائی دونوں وقتوں میں اختلاف ہے : ابتدائی وقت میں وہی اختلاف ہے جو ظہر کے انتہائی وقت میں ہے ، یعنی : امام ابو حنیفہ :مثلِ ثانی سے شروع ہوتا ہے ۔ ائمہ ثلاثہ اور صاحبین :مثلِ اوّل سے شروع ہوتا ہے ۔ انتہائی وقت میں اختلاف کی تفصیل یہ ہے : امام شافعی:تین قول ہیں : (1)غروبِ شمس تک۔(2)مثلِ ثانی تک۔(3)اِصفرارِ شمس تک ۔ ائمہ ثلاثہ:غروبِ آفتاب تک باقی رہتا ہے۔(تحفۃ المِراٰۃ فی دُروس المشکوۃ :253) مغرب: اِس کے ابتدائی وقت میں اتفاق اور انتہائی وقت میں اختلاف ہے ۔