کتاب الصلوۃ |
دیث کی م |
|
(2)طہارتِ ثوب ۔ کپڑےنجاستِ حقیقیہ خواہ غلیظہ ہویا خفیفہ ، دونوں سے پاک ہوں، پس ناپاک کپڑے پہن کر نماز پڑھنے سے اداء نہیں ہوگی ۔ (3) طہارتِ مکان ۔نماز پڑھنے کی جگہ پاک ہو ۔اِس سے مراد قیام اور سجدے کی جگہوں کا پاک ہونا ہے،یعنی دونوں قدم ، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنےاور پیشانی کی جگہ کا پاک ہونا ضروری ہے۔ (4) سترِ عورۃ۔مردوں کا ناف سے بشمول گھٹنے تک کا حصہ ستر ہے، نماز میں اِس کا چھپانا ضروری ہے ، اِسی طرح عورتوں کا سارا بدن سوائے چہرہ ، ہاتھ اور پاؤں کے سب ستر میں داخل ہے، لہذا ان سب کا چھپا ہوا ہونا ضروری ہے۔پس اگر ستر کھول کر نماز پڑھی جائے یا نماز کے دوران عضو کے چوتھائی حصے یا اس سے زیادہ مقدار میں تین تسبیح کے بقدر ستر کھلا رہ جائے تو نماز نہیں ہوگی ۔ (5)نیۃ الصلاۃ۔ نماز کی نیت کرنا ۔نیت متصلاً کرنی چاہئے ، اگر کسی وجہ سے مفصولاً ہو تو فصل بالمنافی نہیں ہونا چاہئے ۔ کالاکل و الشرب ۔نیت شروع میں ضروری ہے ، پس نماز کا کچھ حصہ گزرنے کے بعد کی جانے والی نیت کا اعتبار نہیں ۔زبان سے نیت کرنا ضروری نہیں ،دل سے جان لینا بھی کافی ہے جس کی حد یہ ہے کہ یہ معلوم ہو کہ کون سی نماز پڑھ رہا ہے ۔ نوافل اور سنن میں مطلق ِ نیت ، فرائض میں تعیین الفرض اور جماعت میں اقتداء کی نیت بھی ضروری ہے۔ (6)اِستقبالِ قبلہ ۔ قبلہ کی جانب رُخ کرنا ۔ مکہ مکرمہ میں اصابت ِ عین یعنی عین کعبہ کا استقبال ضروری ہے ۔ دوسرے تمام مقامات میں اصابت ِ جہت یعنی کعبہ کی سمت کا استقبال ضروری ہے ۔ 45 ڈگری دائیں یا بائیں تک اِنحراف کی گنجائش ہے ، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ قصداً انحراف کیا جائے ، بلکہ اصابت ِ عین