آفتاب نسبت مع اللہ |
س کتاب ک |
|
اس کو مزہ آتا ہے۔ ایسے ہی کسی کو ہرن کا شکار پسند ہے، ہرن کے پیچھے دس دس میل تک دوڑتے ہیں، پسینے پسینے ہوجاتے ہیں، تو سرورِ عالم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہمیں بتا دیا کہ اے میری امت کے گناہ گار لوگو! اﷲ تعالیٰ کو بھی ایک شکار بہت پسند ہے، وہ ہے گناہ گاروں کے گناہ کو معاف کردینا تُحِبُّ الْعَفْوَآپ معافی دینے کو بہت محبوب رکھتے ہیں اَیْ اَنْتَ تُحِبُّ ظُہُوْرَ صِفَۃِ الْعَفْوِ عَلٰی عِبَادِکَجب بندوں کے گناہوں کو معاف کرنا آپ کو بہت پسند ہے، آپ کو یہ عمل بہت اچھا لگتا ہے، بہت پیارا لگتا ہے، تو ہم اپنے اپنے ملکوں سے گناہوں کا ذخیرہ لائے ہیں، تو آپ ہم کو معاف کرکے اپنا پیارا اور محبوب عمل ہم پر جاری کردیجیے، آپ کا محبوب عمل ہوجائے گا، محبوب شکار ہوجائے گا اور ہمارا بیڑا پار ہوجائے گا کہ ہم لوگ معافی پاجائیں گے۔ بتاؤ! اﷲ تعالیٰ کے اس مزاج کو کس نے بتایا؟ دنیا میں اﷲ کو سب سے زیادہ پہچاننے والے رسولِ خدا صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہم گناہ گاروں کو بتا دیا کہ جہاں بھی رہو، چاہے جوہانسبرگ میں رہو، چاہے دبئی میں رہو، کہیں بھی رہو یہ دعا جاری رکھو، تا کہ اﷲ اپنے محبوب عمل کو تمہارے اس جملے سے جو میں سکھا رہا ہوں اور میں وہی سکھا رہا ہوں جس پر اﷲ کو پیار آجائے، میں رحمۃ للعالمین ہوں اور اﷲ ارحم الراحمین ہے، مجھ سے بڑھ کر تم کو خدا کی رحمت دِلانے والا کون ہوگا؟ لہٰذا ہم تمہیں یہ دعا سکھا رہے ہیں کہ جب تم اﷲ کے دربار میں عمرہ کرنے جاؤ، تو ہم سے پوچھ لو، بخاری شریف سے معلوم کرلو، وہ ہماری ہی کتاب ہے کہ اﷲ کے پاس کیا تحفہ لے جانا چاہیے۔ بعض لوگ اپنے شیخ کے پاس جاتے ہیں تو شیخ کے مریدوں سے پوچھتے ہیں کہ بھئی میرا شیخ کیا پسند کرتا ہے؟ کوئی بادشاہ کے پاس جاتا ہے تو پوچھتا ہے کہ بھئی منڈیلا کے پاس جارہے ہیں، اس کو کیا پسند ہے؟ سنڈیلا کالڈو تونہیں پسند کرتا۔ لکھنؤ کے پاس سنڈیلا ایک شہر ہے وہاں کا لڈو مشہور ہے اور جیسے ہی ریل وہاں پہنچتی ہے تو آواز لگتی ہے کہ سنڈیلا کے لڈو، سنڈیلا کے لڈو۔ تو منڈیلا سے جاکر کہو کہ منڈیلا کے لیے سنڈیلا کا لڈو لایا ہوں تو منڈیلا ہنسے گا یانہیں ؟ تو سرورِعالم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا کہ دنیا کے بادشاہ اﷲ کے سامنے کچھ نہیں ہیں، وہاں جاکے بادشاہ بھی بھک منگا بن جاتا ہے، کسی مسلم ملک کا بادشاہ بیت اﷲ جائے گا، تو بتاؤ ہاتھ اٹھا کے بھیک مانگے گا یا نہیں؟ روئے گا یانہیں؟ تو یہ جومیں نے دعا سکھائی یہ اﷲ تعالیٰ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہمیں سکھائی کہ یہ تحفہ اﷲکے پاس لے جاؤ، اﷲ اس تحفے کو بہت پسند کرتاہے کہ تم اﷲسے یہ کہہ دو کہ میں آپ کے لیے اپنے گناہوں کا تحفہ لایا ہوں، گناہوں کا ذخیرہ لایا ہوں اور آپ کے رسول نے ہمیں بتا دیا کہ جب آپ گناہ معاف کرتے ہیں تو آپ خوش ہوجاتے ہیں،تُحِبُّ الْعَفْوَ آپ کو معافی دینا بہت محبوب عمل ہے