آفتاب نسبت مع اللہ |
س کتاب ک |
|
ہے کہ اﷲ تعالیٰ بے حساب جنت دیں گے ان شاء اﷲ۔اور یہ راستہ مزے دار بھی ہے، محبت میں مزہ آتا ہے کہ نہیں؟ بتاؤ! اس وقت آپ لوگ جو یہاں بیٹھے ہو مزہ آرہا ہے کہ نہیں؟ اب دعا کرو کہ اﷲ تعالیٰ اختر کو ایک سو بیس سال کی عمر دے عافیت کے ساتھ، خوب دینی خدمات کے ساتھ اور میرے دوستوں کی حیاتِ عافیت کے ساتھ اور اﷲ ایک گروہِ عاشقاں عطا فرما، سارے عالم کے جنگل جنگل، دریا، سمندر میں پھرا دے اور اپنی محبت کے مضامین میری زبان سے بیان کرا کے اﷲ اختر کواور سارے عالم کو اپنا دیوانہ بنادے، ایک بندہ بھی ایسا نہ ہو جو آپ کو پیار کرکے آپ پر فد انہ ہو، اﷲ سارے عالم کو ہم سب کو اپنا بنا لے۔اِنفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب شیخ کا احسان ہے دیکھو! ایک قصہ سن لو، ایک مجذوب تھے، انہوں نے بادشاہ سے کہا کہ جو اس نیک کام میں پیسہ لگائے گا وہ جنت میں جائے گا، بادشاہ نے ہنس کر ٹال دیا ، مگر بادشاہ کی بیوی نے سن لیا اور جلدی سے پیسہ لا کر دے دیا کہ حضرت یہ اس کام میں لگا لیں، اب رات کو بادشاہ نے خواب میں دیکھا کہ بیوی تو جنت میں جارہی ہے مگر مجھے جنت میں جانے سے روکا جارہا ہے تو صبح ہوتے ہی وہ بھی پیسہ لایا مگر مجذوب نے انکار کردیا کہ خواب دیکھ کر اب دے رہے ہو، پہلے کیوں نہیں یقین کیا؟ اس لیے کہتا ہوں کہ اگر آپ کا شیخ یا کوئی اﷲ والا آپ سے کسی نیک کام میں پیسہ خرچ کراتا ہے تو یہ اس کا احسان سمجھو وہ اپنے پیٹ میں تو نہیں ڈال رہا ہے توسمجھ لو کہ مجھ پر احسان کررہا ہے، قیامت کے دن تم میرا شکر یہ ادا کرو گے، لیکن اگرجسم میں مائنڈ ہے آؤٹ آف مائنڈ نہیں ہو، تو زندگی میں بھی شکریہ ادا کرو کہ اﷲ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے، ہم تو چیونٹے کی طرح پیسے سے چپٹے ہوئے تھے اور گڑ دینے کے لیے تیار نہیں تھے لیکناﷲ تعالیٰ نے توفیق دے دی۔ شیخ کے مشورے سے ہمت بڑھ جاتی ہے، ویسے تو آدمی جلدی خرچ نہیں کرتا، اسیلیے حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو فرمایا کہ آج پیسہ لاؤ، اس دن حضرتابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اپنا پورا پیسہ پیش کردیا، پورا گھر صاف کردیا یہاں تک کہ کرتے کے بٹن بھی توڑ کر پیش کر دیے اور ان کی جگہ کانٹا لگالیا، تو ہمارے شیخ نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو بھیجا کہ جاؤ ابو بکر صدیق کو میرا سلام پیش کرو اور پوچھو کہ وہ خوش ہے یا غم زدہ