آفتاب نسبت مع اللہ |
§س کتاب ک |
|
حضرت گنگوہی کا استغناء اور شانِ تربیت شیخ الہند رحمۃ اﷲ علیہ نے حضرت گنگوہی کا ایک قالین اُٹھا یا اور نواب صاحب کے لیے بچھا دیا، حضرت نابینا ہوگئے تھے، لیکن محسوس کرلیا کہ میرا ایک قالین اُٹھا ہوا ہے، دو قالین میں سے ایک رہ گیا ہے، تو فرمایا کہ میرا قالین کس نے اُٹھایا؟ شیخ الہند رحمۃ اﷲ علیہ نے عرض کیا کہ حضرت نواب صاحب کے اکرام کے لیے میں نے بچھا دیا ہے۔ فرمایا کہ قالین واپس بچھاؤ اور نواب صاحب کو دری پر بٹھاؤ، یہاں اِصلاح کے لیے آئے ہیں،اگر اکرام کرانا ہے تو اپنے گھر بیٹھے رہیں۔ میری یہ سب روایات حضرت مفتی محمود الحسن گنگوہی رحمۃ اﷲ علیہ سے براہِ راست مروی ہیں الحمدﷲ۔ میری روایات میں واسطے نہیں ہیں، میں تمام روایات مرفوعاً نقل کرتا ہوں، بزرگوں کی اتنی صحبت اﷲ تعالیٰ نے عطا فرمائی۔ مفتی محمود الحسن گنگوہی نے فرمایا کہ شیخ الہند رحمۃ اﷲ علیہ سے ایک ہندو نے کہا کہ تم اتنی تکلیف اٹھا کر بیس میل دور گنگوہ کیوں جاتے ہو؟ حضرت شیخ الہند نے فرمایا کہ ظالم! تجھے کیا معلوم، کچھ پاتا ہوں تو بیس میل جاتا ہوں ؎ لطفِ مے تجھ سے کیا کہوں زاہد ہائے کمبخت تو نے پی ہی نہیںاسلام پر ایک ہندو کا اعتراض اور مفتی محمود الحسن گنگوہی کا منہ توڑ جواب ارشاد فرمایا کہ ایک مرتبہ مفتی محمود الحسن گنگوہی رحمۃ اﷲ علیہ نے مجھ سے فرمایا کہ ایک ہندو نے کہا کہ بکری اور سور میں کیا فرق ہے،شکل تو دونوں کی بالکل ملتی جلتی ہے، تو بکری آپ کے اسلام میں حلال ہے اور سور حرام ہے؟ تو مفتی صاحب نے فرمایا کہ میں نے یہ جواب دیا کہ اگر تیری ماں میری بیوی کی ہم شکل ہو تو کیا تیری ماں میرے لیے حلال ہوجائے گی؟مفتی صاحب نے فرمایا کہ میرے اس جواب کا ردِّ عمل یہ ہوا کہ وہ رام رام کہتا ہوا ایسا تیز بھاگا کہ یہ تو عجیب ملّا ہے، اس نے تو مجھے عجیب وغریب جواب دیا۔مرید کے دل میں شیخ کی عظمت کیسی ہونی چاہیے؟ ارشاد فرمایا کہ اشعار کے درمیان نثر کرنا ضروری ہے، ورنہ پھر بدگمانی کا موقع ملتا ہے کہ وہاں کہاں جاتے ہو، وہاں تو مشاعرہ ہوتا ہے، تو ہم چاہتے ہیں کہ درمیان درمیان میں نثر کی لذت بھی حاصل کرو۔ انسان