آفتاب نسبت مع اللہ |
س کتاب ک |
|
بھی ہے، اس کا نام اﷲہے، وہ ایسا پیارا مولیٰ ہے جو ہر جگہ ہمارا ساتھ دے گا۔ بس اسی سے دل لگاؤ، یہ کیا کہ جب قبر میں گئے تو بیوی نے کہا کہ اکیلے جاؤ، بچے نے کہا بابا اکیلے جاؤ، کاروبار نے کہا اکیلے جاؤ، مرسڈیز نے کہا اکیلے جاؤ، بینک بیلنس نے کہا اکیلےجاؤ۔ ہم ایسے ساتھی کو ساتھی نہیں سمجھتے، ہمارا پیارا ساتھی وہ اﷲ ہے، وہ اﷲ ایسا پیارا مولیٰ ہے جوزمین کے اوپربھی ہمارا ساتھ دیتا ہے اور زمین کے نیچے بھی ساتھ دیتا ہے، عالمِ برزخ میں بھی ساتھ دیتا ہے اور قیامت کے دن بھی ساتھ دے گا۔محبت ِ للّٰہیہ کا انعام اور جو آپس میں اﷲ کے لیے محبت کرتے ہیں اﷲ ان سے کہے گا کہ تم لوگ آپس میں میری وجہ سے محبت کرتے تھے اب حساب کے میدان میں کیوں پریشان ہو؟ اَیْنَ الْمُتَحَابُّوْنَ فِیَّ؎ اے وہ لوگو جو آپس میں میری وجہ سے محبت کرتے تھے! آجاؤ میرے عرش کے سائے میں۔ جہاں حساب ہوگا وہاں سایہ نہیں ہوگا اور جہاں سایہ ہوگا وہاں حساب نہیں ہوگا، تو بتاؤ! ہم سب کی یہ محبت اﷲ والی ہے یا نہیں؟ تو جب اﷲ تعالیٰ اعلان کرے گا کہ میری وجہ سے آپس میں محبت کرنے والو میرے عرش کے سائے میں آجاؤ۔ حدیث میں آتا ہے کہ جہاں حساب ہوگا وہاں سایہ نہیں ہوگا، تو جب خدا سائے میں بلا رہا ہے تو معلوم ہوا کہ یہاں حساب نہیں ہوگا۔ تو اﷲ والی محبت کونعمت سمجھو، اس کو معمولی مت سمجھو، چھوٹی چھوٹی باتوں سے اپنی اﷲ والی محبت کو نقصان نہ پہنچنے دو، پیر بھائیوں میں بھی آپس میں محبت رکھو، ایک دوسرے سے ملتے رہو۔ دیکھو جب ابّا دیکھتا ہے کہ میرے بچے محبت سے ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو ابّا خوش ہوتا ہے یانہیں؟ تو ربّا بھی خوش ہوتا ہے جب دیکھتا ہے کہ میرے بندے آپس میں محبت سے ملتے ہیں۔ اگر اﷲ کو دور دور رہنا اچھا لگتا کہ ہر بندہ دور دور رہے اور خوب دعا مانگے اور نماز پڑھے تو اﷲ تعالیٰ مسجد میں جماعت کی نماز واجب نہ کرتا۔ اب ایک مسئلہ بتاتا ہوں کہ اگر مسجد پندرہ منٹ کی پیدل مسافت پر ہے تو جماعت ساقط ہوجاتی ہے، جیسے ایک میل کے فاصلے پر اگر پانی ہے تو تیمم جائز ہے اور معتدل رفتار سے ایک میل کاسفر پندرہ منٹ میں طے ہوتا ہے، لہٰذا اگر مسجد پندرہ منٹ کی مسافت کے بقدر دور ہے تو جماعت واجب نہیں ہے، اگر موٹر سے ------------------------------