آفتاب نسبت مع اللہ |
س کتاب ک |
|
نے فرمایا کہ ہم کو زیادہ سر آنکھوں پر مت بٹھاؤ، آج کل حضرت ہم سے کچھ ناراض ہیں، اور پھر یہ شعر پڑھا ؎ بٹھاتے ہیں جو سر آنکھوں پہ سب اس کی خوشی کیا ہو کسی کے قلبِ نازک پر گراں معلوم ہوتا ہوں یہی ہم نے اپنے بزرگوں سے سیکھا ہے۔ ہم جو اپنے بزرگوں کے پاس بیٹھتے تھے اور لکھتے تھے آج اﷲ نے ان ہی کے صدقے میں اختر کو یہ دن دکھایا کہ میرے احباب میرے پاس بیٹھے ہیں۔خدمتِ شیخ کی برکات ایک شیخ نے اپنے عظیم الشان محدث شاگرد سے کہا کہ میرے مہمانوں کے گھوڑوں کے لیے گھاس لے آؤ اور گدھوں کو باندھ دو، پہلے زمانے میں گدھوں پر بھی سواری ہوتی تھی تو ا س کے دل میں وسوسہ آیا کہ اﷲ نے مجھے اتنا عظیم الشان محدث بنایا ہے اور میرا استاد مجھ سے گھوڑوں کے لیے گھاس منگوا رہا ہے اور گدھوں کو بندھوا رہا ہے۔ شیخ کو کشف ہوگیا، شیخ نے بلایا کہ ادھر آؤ، آج تم میرے مہمانوں کے گدھے باندھ رہے ہو اور ان کے لیے گھاس لارہے ہو، ایک دن ایسا آئے گا کہ اﷲ تمہارے مہمانوں کے گھوڑے باندھنے والے اور گھاس لانے والے تم کو دے گا۔ ملّا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا کہ پھر وہ زمانہ آیا کہ یہ بہت بڑے شیخ ہوگئے اور ان کے خادم وہی کام کرنے لگے جو وہ کررہے تھے۔ تو اﷲ کا شکر ہے کہ میں نے اپنے شیخ کے سر پر ہمیشہ تیل لگایا، کپڑے دھوئے، حضرت کونہلانے کے لیے پانی گرم کیا، آج اﷲ پاک کی رحمت سے جب لیٹتا ہوں تو دس دس آدمی خدمت کے لیے آجاتے ہیں، مجھے بھگانے پڑتے ہیں کہ بھئی زیادہ تعداد سے جی گھبراتا ہے۔ اور ان لوگوں کو بھی میں نے دیکھا ہے جنہوں نے میرے شیخ کی خدمت نہیں کی، ان کا علم وغیرہ تو بہت ہے مگر ان کی خدمت کرنے والا کوئی نہیں پاتا ہوں۔ لیکن مخدوم بننے کی نیت سے خادم نہ بنو، پیر کو اﷲ کے لیے چاہو۔ایک غیر مخلص مرید کی حکایت ایک شخص گنگوہ گیا، مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اﷲ علیہ سے بیعت ہوا، اﷲ اﷲ کیا، دس سال کے بعد شکایت کی کہ مجھے کچھ نہیں ملا، آپ نے مجھے خلافت بھی نہیں دی، بس اب میں جارہا ہوں، تو حضرت نے پوچھا کہ یہاں کس لیے آئے تھے؟ کہا کہ اسی لیے تو آیا تھا کہ کچھ دن خدمت کروں گا، آپ خلافت دیں گے تو میں بھی اپنی پیری مریدی کی دکان کھولوں گا۔ حضرت نے فرمایا کہ ظالم جبھی تو تجھ کو کچھ نہیں ملا، اگر اﷲ کے لیے آتا تو اﷲ کو پاجاتا۔