آفتاب نسبت مع اللہ |
س کتاب ک |
|
ہندو اور عیسائی کے پاس بھی ہے، یہ سورج اور چاند تو کافروں کو بھی روشنی دے رہے ہیں، کافر دشمن بھی ان سے فائدہ اٹھارہا ہے، لہٰذا اے اﷲ!یہ چیزیں ہماری خاص نعمت نہیں ہیں، ہماری خاص نعمت تو وہ ہے جو کافروں کو نصیب نہیں، دوستوں کی امتیازی نعمت وہ ہوتی ہے جو دشمنوں کو نہیں ملتی، لہٰذا اے اﷲ!یہ سورج ہمارا سورج نہیں، ہمارا دن اس سورج سے نہیں نکلتا، اس سورج سے تو کافروں کا دن بھی نکلتا ہے، ہمارا سورج تو آپ ہیں، جب ہم آپ کو یادکرتے ہیں، جب آپ کا نام لیتے ہیں تو آپ کا ذکر کرنے کی برکت سے اور آپ کو ناراض نہ کرنے کی برکت سے یعنی نگاہوں کی حفاظت سے اور حسینوں، نمکینوں کو نہ دیکھنے کا غم اٹھا کرحسرتوں کے دریائے خون سے گزرنے سے جب دل کا پورا اُفق لال ہوجاتاہے تب اے اﷲ! آپ کے قرب کا آفتاب طلوع ہوتا ہے اور تب ہمارا دن نکلتا ہے، ہمارا دن آپ کے آفتابِ قرب سے روشن ہوتا ہے۔ یہ نعمت ہماری خاص ہے جو آپ کے دشمنوں کو نصیب نہیں۔خونِ آرزو کاانعامِ عظیم ارشاد فرمایا کہ جو سالک زندگی بھر ہر لمحہ اور ہر سانس اپنے مولیٰ کو راضی رکھنے کے لیے حسینوں اور نمکینوں سے نگاہوں کو بچا کر غمِ حسرت اُٹھاتا ہے اس کے دریائے خون سے دنیاواقف نہیں ہے۔ وہ نابینا نہیں ہے، اس کے سینے میں بھی دل ہے، وہ ہیجڑا نہیں ہے، کامل مردانگی اور کمالِ ذوقِ عاشقی اور شدتِ تقاضائے حسن بینی کے باوجود اپنے مالک کو خوش کرنے کے لیے نظر کی حفاظت کرتا ہے اورغم اُٹھاتا ہے، تو اس خونِ آرزو کی برکت سے اس کا درجہ تمام عابدین سے بلند ہوجاتا ہے۔ اسی لیے سرورِ عالم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: اِتَّقِ الْمَحَارِمَ تَکُنْ اَعْبَدَ النَّاسِ؎ تم حرام سے بچو، سب سے بڑے عبادت گزار ہوجاؤگے۔ اس کا ٹوٹا ہوا دل اﷲکے نزدیک بہت قیمتی ہے۔ قیامت کے دن جب اﷲپوچھے گا کہ میرے لیے کیالایا ہے، تو وہ بندہ کہے گا کہ اے اﷲ!آپ کے لیے خونِ آرزو کا پیالہ نہیں، صراحی نہیں، حوض نہیں، دریا نہیں، خون کا سمندر لایا ہوں ؎ یہ تڑپ تڑپ کے جینا لہو آرزو کا پینا ------------------------------