آفتاب نسبت مع اللہ |
§س کتاب ک |
|
ریسرچ آفیسر نہیں بنایا ہے۔ بس دُم دبا کے نظر نیچی کرکے بچ جاؤ، خیریت اسی میں ہے۔ یہ بات لندن اور جنوبی افریقہ کے علماء کرام نے جو میرے ساتھ تھے بہت پسند کی کہ واقعی شیطان بہکاتا ہے کہ جناب یہ خالی چڈی پہنے ہوئے ہے، اس کا گھٹنہ کھلا ہوا ہے، ان کا دماغ خراب ہے کہ اس ملک کا تو عجیب حال ہے۔ جب ہم اس کو بیان کریں گے تو اگر وہ لوگ یہاں آئے تو ان کو نگاہ بچانے میں آسانی ہوگی۔ میں نے کہاکہ اس نیت سے دیکھنا بھی حرام ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے ہمیں حسن کی ریسرچ کے لیے نہیں بنایا ہے۔ سب کے لیے حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ نظر بچاؤ۔ میں جمعہ کے دن کے چھ اعمال بتارہا تھا:۱)غسل کرنا۔۲)مسجد جلد جانا۔۳)پیدل جانا۔ ۴)امام کے قریب بیٹھنا۔۵)خطبہ غور سے سننا۔۶)لغو کام یعنی فضول حرکت نہ کرنا۔؎ بعض لوگ خطبہ کے دوران فضول حرکتوں میں لگے ہوتے ہیں، کوئی چٹائی کو دیکھ رہا ہے، کوئی دیوار پر لگے ہوئے کتبے دیکھ رہا ہے، کوئی ادھر اُد ھردیکھ رہا ہے،یہ صحیح نہیں ہے۔ جب امام خطبہ دے رہا ہو تو صرف خطبہ سننا چاہیے۔ خطبہ میں امام کو حق ہے کہ وہ اپنے خطبہ کے دوران کوئی نصیحت کردے، مگر مقتدیوں کو یہ حق حاصل نہیں کہ کسی کو نصیحت بھی کریں۔ ان کو خاموشی اختیار کرنی چاہیے یہاں تک کہ دعا مانگنا بھی جائز نہیں، آمین کہنا بھی جائز نہیں، دل میں کہہ سکتے ہو زبان کو حرکت نہ دو۔ فقہاء کرام نے لکھا ہے اِذَاخَرَجَ الْاِمَامُ فَلَا صَلَاۃَ وَلَا کَلَامَ؎ جب امام خطبہ کہے تو زبان سے نہ درود شریف پڑھنا جائز ہے نہ نماز اور نہ ہی کسی قسم کا کلام جائز ہے۔ آج جمعہ کا دن ہے اور جمعہ کے متعلق ایک حدیث کا سبق مل گیا اور یہ ایسی حدیث ہے کہ صحاح ستہ میں سے چار ائمہ امام ترمذی، امام ابو داؤد، امام نسائی، اور امام ابنِ ماجہ نے اس کو نقل کیا۔ بعض محدثین نے فرمایا کہ ایسی صحیح حدیث جو ثواب کی ایسی عظیم فضیلت پر مشتمل ہو ہم نے ذخیرۂ احادیث میں نہیں دیکھی۔جمعہ کے دن کی موت کی فضیلت اور جمعہ کے متعلق ایک اور حدیث سناتا ہوں: مَا مِنْ مُّسْلِمٍ یَّمُوْتُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ أَوْ لَیْلَۃَ الْجُمُعَۃِ إِلَّا وَقَاہُ اللہُ فِتْنَۃَ الْقَبْرِ؎ ------------------------------