آفتاب نسبت مع اللہ |
س کتاب ک |
|
نے دیا کہ تقدیر امرِ الٰہی کا نام نہیں ہے کہ اﷲ تم کو حکم دے کہ زِنا کرو، اﷲ اس عیب سے پاک ہے۔ تقدیر نا م ہے علمِ الٰہی کا، کہ جو تم اپنے ارادوں سے کرنے والے ہو وہ میں نے لکھا ہے۔ تقدیر نام ہے علمِ الٰہی کا نہ کہ امرِ الٰہی کا، کیوں کہ اﷲ کو تمہارے ماضی، حال اور مستقبل کا پورا علم ہے کہ تم نے کیا کیا ہے اور کیا کرو گے؟ جیسے اخبار میں آجائے کہ آج یہاں منڈیلا آئے گا تو اخبار کی وجہ سے وہ تھوڑی آتا ہے اس کے آنے کا جو ارادہ تھا وہ اخبار نے شایع کر دیا، منڈیلا یہ نہیں کہہ سکتا کہ بھئی چوں کہ اخبار میں آگیا ہے اس لیے مجھے آنا پڑا، علمِ الٰہی اور ہے امرِ الٰہی اور ہے۔ اﷲ حکم نہیں دے سکتا کسی بُرائی کا، وہ پاک ہے، لیکن تم اپنی خباثتِ طبع سے جو گناہ کرنے والے ہو اﷲ کو اس کا علم ہے تو اپنے علم کو اس نے لوحِ محفوظ میں لکھ دیا اور پھر یہ بھی ہے کہ علمِ الٰہی میں ہے کہ یہ فلاں وقت میں شراب پیے گا یا زِنا کرے گا مگر اس کے آگے یہ بھی لکھا رہتا ہے کہ میری توفیقِ توبہ سے یہ توبہ کرکے جنت میں جائے گا۔ جیسے حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ نے حالتِ کفر میں ایک صحابی کو قتل کردیا تھا، جب یہ صحابی شہید ہوئے تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قاتل اور مقتول دونوں جنت میں جائیں گے۔ کیسے؟ حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ نے صحابی کو شہید کیا تو وہ صحابی جنت میں گئے اور حضرت عکرمہ بعد میں مسلمان ہوگئے لہٰذا وہ بھی جنت میں جائیں گے، حالاں کہ اس وقت حضرت عکرمہ اسلام نہیں لائے تھے لیکن وحیِ الٰہی سے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو لوحِ محفوظ پر لکھا ہوا فیصلہ معلوم ہوگیا تھا۔ اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی شانِ رحمت دیکھیے کہ حضرت عِکرمہ رضی اﷲ عنہ جو ابوجہل کے بیٹے تھے، ان کے مسلمان ہونے کے بعد آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے صحابہ کو منع کردیا کہ تم لوگ اس کے ابّا کا نام نہ لینا، یہ نہ کہاکرو کہ یہ ابوجہل کا بیٹا ہے تاکہ عکرمہ کو شرمندگی نہ ہو کہ میں اتنے بڑے دشمن کا بیٹا ہوں۔ کیا یہ شانِ رحمت نہیں ہے کہ حضرت عکرمہ جب ایمان لانے مدینہ شریف گئے تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر ان کو پیار کیا اور صحابہ کو منع کردیا کہ ان کی نسبت ابوجہل کی طرف مت کرو، یہ مت کہو کہ یہ ابوجہل کا بیٹا ہے تاکہ ان کو ندامت نہ ہو۔شَمَاتَۃِ الْاَعْدَاء کی شرح تو سُوْءِ الْقَضَاءْ کی تشریح ہوگئی۔ آگے ہے وَشَمَاتَۃِ الْاَعْدَاءایسی حالت نہ ہو کہ دشمن ہنسے کہ بہت بڑے مولوی اور صوفی بنتے تھے، اور اگر ایذائے شیخ کی وجہ سے ایک بظاہر عاشقِ شیخ خانقاہ سے نکالا جائے اور ہمیشہ کے لیے محروم کردیا جائے، تو یہ بھی وَشَمَاتَۃِ الْاَعْدَاءْہے کہ لوگ کہیں کہ صاحب یہ تو بڑے عاشق بنتے تھے، حالاں کہ یہ اتنا آسان پرچہ ہے کہ جس کی حد نہیں کہ خطا ہوئی تو کہہ دو کہ معافی چاہتا ہوں۔