آفتاب نسبت مع اللہ |
س کتاب ک |
|
اَللّٰھُمَّ لَامَانِعَ…الخ کی تشریح جواﷲ کے راستے میں دے،توسمجھ لو کہ دیا تواﷲ نے ہے لیکن اس کو ذریعہ بنایا ہے، دلیل کیا ہے؟ حدیثِ پاک کی یہ دعاہے اَللّٰھُمَّ لَامَانِعَ لِمَا اَعْطَیْتَ اے اﷲ!جوآپ دیناچاہیں گے اس کو کوئی روک نہیں سکتا، تو جب کوئی اﷲکے راستے میں دے تومہتمم کو اس کو تین دعائیں دینا چاہئیں، نمبر۱:اٰجَرَکَ اللہُ فِیْمَا اَعْطَیْتَجوتو نے دیا اﷲاس کو قبول کرکے تجھے ثواب دے۔ نمبر۲:وَجَعَلَہٗ لَکَ طُھُوْرًا اور اس خرچ کواﷲقبول کرکے تیرا دل پاک کردے، تیرے دل کی پاکی اور تزکیہ کا سبب بنادے، تجھے اﷲ والا بنادے۔ نمبر۳: وَبَارَکَ لَکَ فِیْمَا أَبْقَیْتَ؎ اﷲ برکت دے تیرے بقیہ مال میں۔ یہ تفسیر روح المعانی میں لکھا ہے۔ میں نے جب اپنے شیخ کے یہاں یہ بیان کیا، تو میرے شیخ نے دفتر کے ایک عالم کو بلایا جو دفتر میں منشی ہیں کہ جلدی سے اس کو نوٹ کرلو۔ یہ تفسیر روح المعانی میں موجود ہے اور قرآنِ پاک سے اس دعا کو ثابت کیاہے۔ خُذۡ مِنۡ اَمۡوَالِہِمۡ صَدَقَۃً کے ذیل میں اﷲتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اے محمد(صلی اﷲ علیہ وسلم)!آپ صحابہ کا صدقہ قبول کیجیے تُطَہِّرُہُمۡ وَ تُزَکِّیۡہِمۡ بِہَا؎ اس سے ان کی طہارت اور تزکیہ فرمائیے۔ معلوم ہوا کہ مال خرچ کرنے سے اصلاحِ نفس کا زبردست ربط ہے، اور مولوی بھی اﷲکے راستے میں مال دے سکتا ہے خواہ تھوڑا ہی سہی۔ میرے شیخ نے جامعہ اشرفیہ لاہور میں فرمایا کہ تم تین ہزار تنخواہ پاتے ہو، توکیا پانچ روپے بھی چندہ نہیں دے سکتے ہو؟ صرف چندہ مانگنا ہی جانتے ہو، دینا کیوں نہیں جانتے؟ پانچ روپیہ دو تمہارا بھی حصہ لگ جائے گا، اس لیے مولوی کو بھی اﷲ کے راستے میں دینا چاہیے۔ مفتی شفیع صاحب رحمۃاﷲعلیہ فرماتے تھے کہ اے مولویو! ہروقت چائے پی کر جزاک اﷲ کہہ دیتے ہو،کبھی تم بھی تو پلایا کرو۔ تویہ بتادیا کہ اَللّٰھُمَّ لَا مَانِعَ کا ہی تصور رکھو، کوئی نہ دے تواس کی غیبت نہ کرو،یہ کہو اَللّٰھُمَّ لَامَانِعَ لِمَااَعْطَیْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَاس پر مانع کی تجلی ہوئی اِس لیے یہ نہیں دے رہا ہے اور اُس پر مُعطی کی تجلی ہوئی تبھی اس کو دینے کی توفیق ہوگئی، دونوں زیرِ سایۂ تجلی ہیں، جس کے دل میں ہمت نہیں آرہی ہے،کنجوسی آگئی، تو یہ اسمِ مانع کا مظہر ہے، اور جودے رہاہے وہ اسمِ مُعطی کا مظہر ہے،مہتمم کو دونوں تجلی ------------------------------