آفتاب نسبت مع اللہ |
س کتاب ک |
|
آیت اِسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ…الخ کی تفسیر دین میں مایوسی تو ہے ہی نہیں، اگر کبھی خطا ہوجائے تو اِسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْاپنے رب سے معافی مانگو، اگر اﷲ کو معاف نہ کرنا ہوتا تو یہ آیت کیوں نازل فرماتے؟ جب ابّا اپنے بچوں سے کہے کہ نالائقو ادھر آؤ اور اپنے ابا سے معافی مانگو، اس سے معلوم ہوا کہ ابّا معاف کرنا چاہتا ہے جبھی تو بلا کر معافی منگوا رہا ہے، لہٰذا اِسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ اپنے رب سے معافی مانگو اِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا؎وہ بہت معافی دینے والا ہے۔ اس آیت کی شرح و تفسیر میں ترمذی شریف کی حدیث ہے کہ اے میری امت کے لوگو! اﷲ سے یوں کہو: اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیْمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ؎ اے اﷲ! آپ بہت معاف کرنے والے ہیں، کرم کرنے والے ہیں، معاف کرنے کو محبوب رکھتے ہیں، پس جلدی سے مجھے معاف کر دیجیے۔عَفُوٌّ کی شرح یہاں عَفُوٌّاسمِ مبالغہ ہے، اِنَّکَ عَفُوٌّکی شرح میں ملّا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ محدث عظیم نے لکھا ہے اَیْ اَنْتَ کَثِیْرُ الْعَفْوِ؎آپ بہت معاف کرنے والے ہیں،کَثِیْرُ الْعَفْوِتو آپ ہیں، لیکن بعض وقت کَثِیْرُ الْعَفْوِکو بھی بار بار معاف کرنے سے تکلیف ہوسکتی ہے کہ میں نے اتنی مرتبہ معاف کیا مگر یہ پھر بھی باز نہیں آتا، لہٰذا حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے امت کو سکھایا کہ تم اﷲ سےتُحِبُّ الْعَفْوَ بھی کہو، کیوں؟ میں اﷲ کا مزاج سمجھتا ہوں، اﷲ کا مجھ سے بڑھ کر مزاج شناس کائنات میں نہ کوئی تھا، نہ ہے، نہ آیندہ ہوگا کہ آپ کَثِیْرُ الْعَفْوِہی نہیں ہیں، صرف بہت زیادہ معاف کرنے والے ہی نہیں ہیں، بلکہ معاف کرنے کو محبوب بھی رکھتے ہیں۔ ------------------------------