آفتاب نسبت مع اللہ |
س کتاب ک |
|
دینی خدّام کی روزی کا انتظام مِن جانب اللہ ہوتا ہے بعض بے وقوف لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر میں اﷲ والوں کے پاس رہوںگا یا اﷲاﷲ کروں گا، اﷲ کا نام لوں گا تو میری دنیا چھوٹ جائے گی حالاں کہ اﷲ والا بننے سے دنیا اور ملتی ہے،اللہ والے دنیامیں لگنے کو منع نہیں کرتے،خوب دنیا کماؤ مگر اللہ کو نہ بھولواللہ کو ناراض نہ کرو، مگر چوں کہ اہلِ علم کا کام دین کو پھیلانا ہے اس وجہ سے وہ دنیا میں زیادہ نہیں لگتے، بقدرِ ضرورت لگتے ہیں، جیسے جب نبی کو نبوت عطا ہوتی ہے تو پھر اس کے لیے جائز نہیں ہوتا کہ وہ کاروبار اور تجارت کرے، اور نبی کا تو بڑا مقام ہے، نبی کے خلیفہ کے لیے بھی جائز نہیں ہے کہ وہ کاروبار کرے۔ میرے شیخ شاہ عبد الغنی صاحب رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا کہ جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ خلیفہ ہوئے تو کندھے پر کپڑے ڈال کر مدینے شریف کی گلیوں میں بیچنے کے لیے نکلے، تو صحابہ نے کہا کہ خبردار! اب آپ یہ کام نہیں کریں گے، آپ اب امیر المؤمنین ہیں، آپ سلطنت کا کام کیجیے، مسلمانوں کی حفاظت کیجیے اور ان کو دین سکھائیے، بیت المال سے آپ کووظیفہ ملے گا۔ آپ کسی فوجی سے پوچھو کہ بھئی آپ کو کہاں سے روٹی ملتی ہے؟ فوجی کہے گا کہ ہمیں سرکار سے روٹی ملتی ہے اور تمہاری روٹی سے اچھی روٹی ملتی ہے، ہمارے آٹے کو ڈاکٹر ٹیسٹ کرتا ہے تاکہ فوجی بیمار نہ ہوجائیں، ہمارا دودھ خالص ہوتا ہے، گھی خالص ہوتا ہے، سرکار ہمارے کھانے پینے کے لیے اعلیٰ کوالٹی کی چیزوں کا انتظام کرتی ہے۔ اسی طرح جب کوئی اﷲ تعالیٰ کے سرکاری کام میں لگے گا تو پھر سرکاری طور پر اس کا انتظام ہوتا ہے، اسے اچھی اچھی غذائیں ملتی ہیں۔ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ اے خدا! علماء کا رزق ساری دنیا میں پھیلا دے، ایک جگہ نہ رہے تاکہ جب رزق کی وجہ سے وہ مختلف مقامات پر جائیں گےتومیرے دین کو پھیلائیں گے،لہٰذا جو کسی مولوی کی دعوت کرتا ہے تو سمجھ لو کہ وہ حضورصلی اﷲ علیہ وسلم کی دعا سےدعوت کررہا ہے اور یہ اس کی خو ش نصیبی ہے۔لذتِ تسلیم ورضا حکیم الامت مجدد زمانہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی اﷲ والے کو دیکھو کہ اس کے آنسو بہہ رہے ہیں، تو یہ نہ سمجھو کہ وہ کسی مصیبت میں ہے، وہ اﷲ کی محبت میں رو رہا ہوگا، اور اگر کوئی دنیاوی مصیبت بھی ہے تو اس موقع پر آنسو نکلنا بھی سنت ہے۔ جب حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے صاحب زادے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوا