آفتاب نسبت مع اللہ |
س کتاب ک |
|
اگر مجنوں و لیلیٰ زندہ گشتے حدیثِ عشق زیں دفتر نوشتے اگر لیلیٰ ومجنوں زندہ ہوتے تو اپنے عشق کی داستان میری کتاب گلستان سے شروع کرتے، اپنی عشق بازی میں میرے محتاج ہوتے، لیکن عشق و محبت کا اتنا بڑا امام جو لیلیٰ ومجنوں کو چیلنج کررہا ہے وہ فرماتا ہے ؎ دل آرامے کہ داری دل در و بند دِگر چشم از ہمہ عالم فروبند اے میرے دوستو! میرے پیارو! دل کا آرام اسی میں ہے کہ دل میں صرف اﷲکو بسالو، اﷲ سے چمٹے رہو، جیسے چھوٹا بچہ ماں سے چمٹا رہتا ہے، اور ساری دنیا کے حسینوں سے آنکھیں بند کرلو۔ پھر چین ہی چین ہے، ورنہ کہیں چین نہ پاؤگے۔ بس ساری محنت اور جان کی بازی اسی پر لگادو کہ دل میں غیر اﷲ نہ آنے پائے، جیسا کہ مولانا شاہ محمداحمد صاحب رحمۃ اﷲعلیہ فرماتے ہیں ؎ نہ کوئی راہ پا جائے نہ کوئی غیر آجائے حریمِ دل کا احمد اپنے ہر دم پاسباں رہنا بس اپنے قلب کی پاسبانی سب سے بڑا سلوک ہے، کیوں کہ دل شاہی محل ہے، دارالسلطنت ہے۔ اگر تم نے دل کی حفاظت نہیں کی تو دل مولیٰ سے محروم ہوجائے گا اور جس محل میں شاہ نہ ہو اس محل کی کوئی قیمت نہیں رہتی۔۴) بد نظری بصورتِ تقدس مآ بی ارشاد فرمایا کہ بعض لوگ تھوڑی تھوڑی دیر میں ایک نظر حسینوں پر ڈال دیتے ہیں، پھرجھٹکے سے ہٹالیتے ہیں تا کہ پتا چلے کہ بڑے متقی ہیں، پھر تھوڑی دیر میں ایک نظر مارلی اور پھر جھٹکے سے ہٹالی، تو خوب سمجھلیں کہ اس جھٹکے بازی سے اﷲ نہیں ملے گا، کیوں کہ نفس اتنا بڑا چور ہے کہ سیکنڈوں میں نمک چرا لیتا ہے اور حرام لذت اُڑا لیتا ہے اگرچہ جھٹکا مار کرنظر ہٹالیتا ہے، لیکن اس تقدس مآ بی کے ساتھ نمک حرامی کررہا ہے، یہتقدس مآ بی اور عالی جنابی نہیں ہے، بلکہ یہ صاحبِ جنابت ہے، نمک حرامی کررہا ہے۔ اس لیے عرض کرتا ہوں اور ستّر سال کا نچوڑ آپ کو مفت میں پلاتا ہوں کہ دنیا کے جتنے حسین ونمکین ہیں چاہے مرد ہوں یا عورت سب سے عینًا قلبًا وقالبًا الگ ہوجاؤ۔ بعض لوگ نظر تو بچالیتے ہیں، لیکن دل میں اس کے نمک سے مزہ