آفتاب نسبت مع اللہ |
س کتاب ک |
|
حکیم الامت حضرت تھانوی رحمۃ اﷲ علیہ کے الفاظ ہیں کہ اہل اﷲ کی صحبت میں جو لوگ رہتے ہیں ان سے خطا تو ہو سکتی ہے مگر دائرۂ اسلام سے ان کا خروج نہیں ہوسکتا، برعکس اس کے جو شیخ سے دور ہوکر خود عبادت کرتے رہتے ہیں تو پھر شیطان کان میں پھونک دیتا ہے کہ آپ تو بہت ہی اہمیت کے حامل ہیں، بڑے عبادت گزار ہیں، بہت مقدّس ہیں، تقدّس مآب ہیں۔ ذرا پھر پڑھیے اس شعر کو ؎ سایۂ شیخ ہے گوشۂ عافیت جب جلائیں تمہیں نفس کی گرمیاں خدمتِ شیخ سے جس کو عار آتی ہے اس کی قسمت میں نسبت کا موتی کہاں شیخ کی تربیت سے جو کتراتا ہے وہ رہے گا بس اُلّو کا اُلّو میاں شکر ہے اُلّو کا پٹھا نہ کہا، بڑی عزت رکھ لی اس نے، شعر میں الّو میاں کہنے میں وہ بے عزتی نہیں ہے جو الّو کا پٹھا کہنے میں ہے، میاں لگا کر عزت رکھ لی ۔بربادِ محبت کی آباد کاری اس کی تعمیر خود حق تعالیٰ کریں حق کی خاطر ہو جس دل کی بربادیاں یہ میرا ہی مضمون ہے۔ آہ! جو اﷲ کے لیے اپنا دل برباد کرتا ہے اس کی تعمیر اﷲ تعالیٰ خود فرماتے ہیں جس کو حضرت مولانا محمد احمد صاحب رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا کہ ؎ بربادِ محبت کو نہ برباد کریں گے میرے دلِ ناشاد کو وہ شاد کریں گے جو اﷲ کے لیے اپنا دل غمگین کرے گا اور حرام خوشی دل میں نہ آنے دے گا اس کے دل کو اﷲ شاد کرتا ہے، اور جس کو خدا خوشی دے اس کی خوشی کا کیا عالم ہوگا! جو اپنی بُری خواہش کو برباد کرتے ہیں اﷲ اسے بے مثل