آفتاب نسبت مع اللہ |
س کتاب ک |
|
میرے شیخ شاہ عبد الغنی رحمۃ اﷲ علیہ ایک مثال دیتے تھے کہ کتاب میں تیرنے کے سارے طریقے لکھے ہیں، ہر صفحے پر مختلف نقشے ہیں کہ ایسے ہاتھ چلاؤ، ایسے لیٹو، لیکن کتاب دیکھ کرکوئی دریا میں اتر جائے اور تیر کے دکھادے، تو شیخ نے فرمایا کہ تیرنے کی کتاب دس ہزار صفحے کی ہو، بین الاقوامی کتاب ہو، اس کا مثل نہ ہو، مگر کتاب لے کے دریا میں جاؤ اور تیرنے کی مشق کرو تو کتاب بھی ڈوبے گی اور کتاب پڑھنے والا بھی ڈوبے گا، اور کسی تیرنے والے کے ساتھ رہو تو خود ہی تیرنے لگو گے۔ اﷲ والوں کے ساتھ رہنے سے لوگ اﷲ والے ہوگئے اور مولوی کتاب پڑھ کر اﷲ والے نہ بنے، کیوں کہ انہوں نے اراء ۃ الطریق تو لیا، علمِ منزل تو حاصل کیا لیکن کسی بالغِ منزل کی صحبت نہیں اٹھائی۔اللہ والوں کے پاس حصولِ کیفیاتِ احسانیہ کی نیت سے جانا چاہیے اﷲ والوں سے اضافۂ علم کے لیے مت ملو، کیفیاتِ احسانیہ لینے کے لیے جاؤ، پھر آپ کی دو رکعات ایک لاکھ رکعت کے برابر ہوجائے گی۔ کیفیاتِ احسانیہ وہ نعمت ہے کہ صحابہ نے حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے قلبِ مبارک سے کیفیاتِ احسانیہ حاصل کیں، چوں کہ قیامت تک اب نبی کا قلب نہیں ملے گا، لہٰذا اب کوئی صحابی نہیں ہوسکے گا۔ کیفیاتِ احسانیہ سے عمل میں وزن بڑھ جاتا ہے، ورنہ عبادت کروگے تو محنت و مشقت ہی رہے گی قبولیت نہیں رہے گی، روحانیت نہیں رہے گی۔ اﷲ والے بالغِ منزل ہیں، مدارس اور کتابیں ہمیں عالمِ منزل بناتی ہیں اور اﷲ والوں کی صحبت سے بندہ بالغِ منزل ہوجاتا ہے، بہت سے مجنوں ایسے ہیں جو جغرافیہ پڑھاتے ہیں لیلیٰ کا اور تنخواہ لیتے ہیں، پروفیسر تو ہیں مگر خود لیلیٰ کے رجسٹر میں ان کا نام عاشقوں میں نہیں ہے، لیلیٰ بھی سمجھتی ہے کہ یہ پڑھائی کی تنخواہ لے رہا ہے، میرے نام پر روٹیاں کھا رہا ہے، اگر مجھ سے محبت ہوتی تو پہلے میرے پاس آتا، اور جو مجنوں لیلیٰ سے مل کر لیلیٰ کا جغرافیہ پڑھائے گا اس کی پڑھانے کی شان او رہوگی۔ تو بہت سے لوگ دراساتِ مولیٰ پڑھا رہے ہیں، پیٹ کے لیے تنخواہ لیتے ہیں، لیکن جو مولیٰ تک پہنچا ہو اس کے درس کا مزہ کچھ اور ہے۔ ایک شخص جو ملّا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب مناسک الحج پڑھا رہا ہے اور کبھی حج نہیں کیا، اس کے اندازِ گفتگو سے اور آنکھوں سے معلوم ہوگا کہ یہ ایسے ہی ہے، یہ وہ چڑیا ہے جو خود گم گشتہ آشیاں ہے ؎ اک نظر میں آشیاں گم گشتہ کو بھانپ لیں ہم ہیئتِ پرواز سے