آفتاب نسبت مع اللہ |
س کتاب ک |
|
بیویوں کو کچھ شوخی کا حق حاصل ہے حضور صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اے عائشہ! جب تم خوش ہوتی ہو تو میں سمجھ جاتا ہوں اورجب تم مجھ سے روٹھتی ہو، منہ پھلا لیتی ہو، خوش نہیں ہوتی تو بھی تم کو پہچان جاتا ہوں۔ تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے پوچھا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اے اﷲ کے نبی! میرے روٹھنے کا آپ کو کیسے علم ہوجاتا ہے؟ فرمایا: جب تو مجھ سے خوش رہتی ہے تو کہتی ہے وَرَبِّ مُحَمَّدٍمحمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے رب کی قسم! اور جب روٹھ جاتی ہے تو کہتی ہے وَ رَبِّ اِبْرَاھِیْمَ؎ ابراہیم علیہ السلام کے رب کی قسم! تو معلوم ہوا کہ بیویوں کو تھوڑی سی شوخی کا حق حاصل ہے۔ جب بیوی منہ پھلا لے اور نہ بولے تو فوراً اس سے پوچھو اور بار بار پوچھو کہ تمہاری طبیعت کیسی ہے؟ اور تجربے کی بات بتا رہا ہوں کہ وہ ایک دفعہ میں نہیں بتاتی، پھرتھوڑی دیر میں پوچھو کہ آپ کو کیا تکلیف ہے؟ مجھے بہت غم ہے، میں بہت پریشان ہو رہا ہوں، آپ کیوں غمگین ہیں؟ سر میں درد ہے؟ کیا بات ہے؟ ڈاکٹر کو لاؤں کوئی دوا لاؤں؟ پھر دو دفعہ پر بھی نہیں بتائے گی ویسے ہی منہ پھلائے رہے گی، تین دفعہ کے بعد کچھ دل ذرا نرم ہوگا پھر کہے گی کہ آج سر میں کچھ تکلیف ہے یا میں نے کہا تھا کہ مرنڈا لے آنا تم کیوں بھول گئے؟ تمہارے دل میں اگرمیری محبت ہوتی تو تم مرنڈا نہیں بھولتے، سارے کام دنیا کے کرتے ہو اورمیری فرمایش بھول جاتے ہو، یہ دلیل ہے کہ تمہارے دل میں میری محبت نہیں ہے۔ جس گھر میں میاں بیوی میں خوب محبت رہتی ہے اس گھر میں چین وسکون اور اطمینان ہوتا ہے اور جس گھر میں میاں بیوی میں لڑائی رہتی ہے وہ گھر دوزخ کی طرح ہوتا ہے۔حکیم الامت کا ایک پُر حکمت علاج حکیم الامت تھانوی رحمۃ اﷲ علیہ سے ایک تھانے دار نے کہا کہ حضور میں تھانے دار ہوں، جب تھانے جاتا ہوں تو پولیس والے تھر تھر کانپتے ہیں، لیکن جب میں اپنی بیوی کے پاس جاتا ہوں تو میں کانپتا ہوں۔ میری بیوی ایسی جلّادن، ایسی غصے والی ہے، جب لال لال آنکھ سے مجھے دیکھتی ہے تو میں کانپنے لگتا ہوں۔ تو حضرت نے لکھا کہ تم یہ سمجھو کہ تمہاری بیوی ایک چڑیا ہے جس کی بولی یہی ٹر ٹر ٹر کرنا ہے۔ بعد میں اس تھانے دار نے حضرت کو خط لکھا کہ جب سے آپ نے یہ لکھا کہ تمہاری بیوی ایسی چڑیا ہے جس کی آواز ہی یہی ------------------------------