آفتاب نسبت مع اللہ |
§س کتاب ک |
|
محبوبِ حقیقی تعالیٰ شانہٗ۔ وہ دنیا میں رہتا ہے، لیکن دنیا سے بے گانہ ہوتا ہے۔ میرا شعر ہے ؎ جہاں میں رہتے ہوئے ہیں جہاں سے بے گانے بلا کشانِ محبت کو کوئی کیا جانے وہ دنیا سے دل نہیں لگاتا، کیوں کہ جانتا ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے والے نے اس کا نام دارالغرور(دھوکے کا گھر) رکھا ہے۔ مولانا رومی فرماتے ہیں کہ اﷲ نے دنیا کو دھوکے کا گھر کیوں فرمایا اس کی وجہ بیان فرماتے ہیں ؎ زیں سبب شد خاک را دار الغرور کہ کشد پارا سپس یوم العبور جو دنیا ہر وقت آگے پیچھے پھرتی ہے لیکن جب روانگی کا وقت آتا ہے اور جنازہ قبر میں اترتا ہے تو یہ اپنا ہاتھ کھینچ لیتی ہے اور ساتھ چھوڑ دیتی ہے۔ پھر اس کے بیوی بچے، اس کا مکان، کاروبار، کار، موبائل، موبل آئل، لیڈیز اور مرسڈیز سب چھوٹ جاتے ہیں یا نہیں؟ یہی دلیل ہے کہ دنیا دھوکے کا گھر ہے لہٰذا اس کے چکر میں مت آؤ، اس میں رہو مگر اس سے دل نہ لگاؤ۔ جب میرا سفر ہندوستان کا ہوا تو کانپور کے کچھ سیٹھوں نے مجھ سے پوچھا کہ اگرہم دنیا سے دل نہیں لگائیں گے تو کاروبار کیسے کریں گے؟ میں نے کہا: کاروبار سے دل لگانے کو کس نے منع کیا ہے۔ دنیا کی شدید محبت بھی جائز ہے۔اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں:اِنَّہٗ لِحُبِّ الۡخَیۡرِ لَشَدِیۡدٌ؎ انسان مال کی محبت میں بہت شدید ہے۔ اگر ہم دنیا سے، اولاد سے، بیوی بچوں سے، کاروبار سے شدید محبت کریں تو بھی جائز ہے، لیکنوَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلہِ؎ بس اﷲ کی محبت اشدّ ہو، اگر کاروبار کی محبت فورٹی نائن(۴۹)پرسنٹ ہے تو اﷲ کی محبت ففٹی ون(۵۱) پرسنٹ رکھو۔ لیکن اس کا پتا تب چلے گا کہ آپ اہل وعیال اور کاروبار کے ساتھ بھیاﷲ والے رہیں۔ ہندوستان کے شہر الٰہ آباد میں حضرت مولانا شاہ وصی اﷲ صاحب کا ایک مرید گھی کا بیوپاری، حضرت کی صحبت کی برکت سے اﷲ والا ہوگیا۔ایک ہندو تاجر آیا اور چالیس ہزار کا گھی خریدنے کا سودا کرلیا۔انہوں نے گھی تولنے کے لیے ترازو میں کنستر رکھا ہی تھا کہ اذان ہوگئی،انہوں نے ہندو بنئے کو چالیس ہزار روپے واپس کردیے کہ میں اس وقت گھی نہیں دے سکتا کیوں کہ نماز پڑھنے جارہا ہوں، تمہارا دل چاہے ------------------------------