آفتاب نسبت مع اللہ |
§س کتاب ک |
|
تو انتظار کرو ورنہ دوسری دکانیں ہیں وہاں سے خریدلو۔ جب اطمینان سے نماز پڑھ کر واپس آئے تو دیکھا کہ ہندو وبنیا وہیں بیٹھا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے تو تمہارا چالیس ہزار روپیہ واپس کردیاتھا،اوربھی دکانیں ہیں وہاں سے کیوں نہیں خرید لیا؟ اس ہندو نے کہاکہ میں نے سوچا کہ جس کے دل میں خداکا اتنا خوف ہو کہ اپنی عبادت کی خاطر جس نے چالیس ہزار واپس کردیا توایسا شخص دھوکا نہیں دے سکتا، نہ کم تولے گا، نہ ڈنڈی مارے گا، نہ نقلی مال دے گا، اسی لیے میں بیٹھا ہوا ہوں۔ اگر آپ ایک گھنٹے کے بعد بھی آتے تو مجھے یہیں پاتے، کیوں کہ گھی مجھے آپ ہی سے خریدنا ہے۔ دیکھا آپ نے اﷲ والا بننے سے یہ ہوتا ہے۔ پھر تو سارے الٰہ آباد میں اس کا ڈنکا پٹ گیا اور اس کی ڈیلینگ(Dealing)اور سیلنگ(Selling)اتنی بڑھ گئی کہ دوسرے دکان دار حسد کرتے تھے۔ بس اﷲ والے بن کے رہو، دنیا بھی برس جاتی ہے ورنہ کہیں چین نہیں پاؤ گے۔ رین میں چین کہاں! چین صرف اﷲوالوں کے پا س ہے۔ تو ایک علامت بیان ہوگئی کہ جس کے دل میں نورِ ہدایت آتا ہے وہ دنیا سے کنارہ کش ہو جاتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ یہ زندگی دو ریلوں کے درمیان ہے۔ پیدایش کی ریل سے آیا ہوں، اب موت کی ریل کسی وقت بھی آسکتی ہے۔ دنیا کی ریل جب آتی ہے تو سیٹی بجادیتی ہے اور اسٹیشن ماسٹر سگنل ڈاؤن کرکے لائن کلیئر کر دیتا ہے لیکن اﷲ کے پاس لے جانے والی موت کی ریل کا نہ پہلے سے کوئی سگنل ہوتا ہے، نہ کوئی آواز آتی ہے، نہ اسٹیشن ماسٹر کو خبر ہوتی ہے۔ اس لیے اﷲ والے ہر وقت چوکس رہتے ہیں کہ نہ معلوم اﷲ کس وقت بلالے، اس لیے نماز روزہ اور تمام اعمال کی فائل درست رکھتے ہیں۔ ان کا دل دنیا سے اُچاٹ ہوجاتا ہے۔ لیکن دنیا سے کنارہ کش تو ہندو سادھو اور عیسائی راہب بھی نظر آتا ہے، لہٰذا یہ لوگ بھی دعویٰ کرسکتے تھے کہ ہم بھی دنیا سے کنارہ کش ہیں اس لیے ہمارے دل میں بھی نور ہے، لیکن کلامِ نبوت جامع اور مانع ہوتا ہے اس لیے حضورصلی اﷲ علیہ وسلم نے نورِ ہدایت کی دوسری علامت بیان فرمائی تاکہ جوگی، راہب اور سادھو اس سے خارج ہوجائیں، چناں چہ دوسری علامت ہے: وَالْاِنَا بَۃُ اِلٰی دَارِالْخُلُوْدِ دنیا سے کنارہ کش ہونے کے ساتھ ان کی دوسری صفت یہ ہے کہ ہر وقت ان کی توجہ آخرت کی طرف رہتی ہے کہ ہم کچھ ایسے کام کرلیں جن سے ہماری آخرت سنور جائے اور ایسے کاموں سے بچیں جن سے آخرت تباہ ہوتی ہے، اور جوگیوں اور راہبوں کے یہاں آخرت کا تصور ہی نہیں، لہٰذا یہ علامت بیان فرما کر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے تمام گمراہ لوگوں کو اہلِ نور کے زُمرے سے خارج فرمادیا۔ جن کے دل میں