آفتاب نسبت مع اللہ |
§س کتاب ک |
|
چاہے کہ میں اﷲ کا نہ بنوں، کسی کالی گوری سے عشق بازی کروں تو نہیں کرسکتا۔ اس کو زبردستی ولی اﷲ بننا پڑے گا، کیوں کہ اﷲ تعالیٰ اس کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے اور اﷲ سے زیادہ کس کی طاقت ہے؟ بتائیے! ایک طرف ایک کمزور دبلا پتلا آدمی کسی کو کھینچ رہا ہو اور دوسری طرف جوڈو کراٹے کا ماہر باکسنگ چیمپئن محمد علی کلے کھینچ رہا ہے تو بتائیے کہ وہ کدھر کھنچے گا؟ پس ساری دنیا اگر کسی کو اپنی طرف کھینچے تو وہ نہیں کھنچ سکتا اگر اس کو اﷲ کھینچ رہا ہے۔ تو اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اﷲ جس کی ہدایت کا ارادہ کرتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔ صحابہ کرام نے سوال کیا: کَیْفَ الشَّرْحُ یَا رَسُوْلَ اللہِ؟ اے اﷲ کے رسول! سینہ کیسے کھلتا ہے؟ آپ نے فرمایا: اِنَّ النُّوْرَ اِذَا دَخَلَ الصَّدْ رَ اِنْفَسَحَ جب ہدایت کا نورسینہ میں داخل ہوتا ہے تو اس کا سینہ بہت وسیع ہوجاتا ہے۔ پھر صحابہ نے پوچھا: یَا رَسُوْلَ اللہِ، ھَلْ لِّتِلْکَ مِنْ عَلَمٍ یُّعْرَفُ بِہٖ؟ اے اﷲکے رسول! کیا اس کی کوئی علامت بھی ہے جس سے معلوم ہوجائے کہ وہ نور دل میں آگیا؟ آہ! صحابہ کا یہ سوال ہم پر احسان ہے کہ جس سے نورِ ہدایت کی علامات کا ہم کو علم ہوگیا ورنہ کافر بھی دعویٰ کرسکتا تھا کہ میرے دل میں بھی یہ نور ہے، انگریز کہہ دیتا کہ دیکھو میری جِلد کیسی گوری ہے، یہ دلیل ہے کہ میرے دل میں نور بھرا ہوا ہے۔ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ ہاں ہدایت کا نور دل میں آنے کی تین علامات ہیں۔ دوستو! خوب غورسے سن لیجیے تاکہ ہم فیصلہ کرسکیں کہ اﷲ تعالیٰ نے ہماری ہدایت کا فیصلہ فرمایا ہے یا نہیں۔ پہلی علامت ہے: اَلتَّجَافِیْ عَنْ دَارِ الْغُرُوْرِ دھوکے کا گھر یعنی دنیا سے اس کا دل اُچاٹ ہوجاتا ہے، دنیا میں اس کا دل نہیں لگتا۔ جسم سے دنیا کے کام کرتا ہے، بیوی بچوں کا حق ادا کرتاہے، کار بھی رکھتا ہے کاروبار بھی کرتا ہے مگر اُس کے دل میں یار ہوتا ہے یعنی