آفتاب نسبت مع اللہ |
§س کتاب ک |
|
اسی طرح جو نائبینِ رسول یعنی اللہ والوں کے پاس رہتا ہے اور اللہ اللہ کرتا ہے یُرِیْدُوْنَ وَجْھَہٗ کا مصداق ہوجاتا ہے۔ اللہ خالقِ مقناطیس، خالقِ میگنٹ ہے تو جو اللہ کا نام لیتا ہے اللہ کی طرف کھنچ جاتا ہے، اس کا دل مجبورِ محبت ہوجاتا ہے اور حا لًّااور استقبالاً یعنی موجودہ حالت میں بھی اور آیندہ کے لیے بھی اس کا ارادہ رہتا ہے کہ میں اپنے مولیٰ کو نہیں چھوڑوں گا اور لیلاؤں کے چکر میں نہیں آؤں گا، کیوں کہ لیلیٰ ہی مولیٰ سے محروم کرتی ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے صحابہ کو ایک اور انعام دیا وَلَاتَعْدُ عَیْنٰکَ عَنْھُمْ؎ اے نبی!آپ کے یہ صحابہ صبح و شام مجھے یاد کرتے ہیں اور ان کے دل میں صرف میں مراد ہوں، اس اخلاص کی برکت سے آپ اپنی نظرِ عنایت سے ان کو محروم نہ فرمایئے۔ معلوم ہوا کہ اگر کوئی یہ دوعمل کرلے کہ اللہ والوں کے ساتھ رہے اور اللہ کا نام لیتا رہے تو ان دو اعمال کی برکت سے اللہ اس کے دل میں اخلاص پیدا کردے گا ، وہ اللہ کا مرید اور اللہ ہروقت اس کے دل میں مراد ہوتا ہے تو پھر شیخ کے دل میں اللہ خود ڈالتا ہے کہ اس پہ خاص نظرِ عنایت کرو۔ حکیم الامت تھانوی بیان القرآن میں اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ صحابہ پر تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر تھی ہی پھر وَلَاتَعْدُ عَیْنٰکَ عَنْھُمْ سے کیا مراد ہے؟ فرماتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ جتنی نظرِ عنایت صحابہ پر ابھی آپ کی ہے اے نبی اس میں اور ترقی اور اضافہ کردیجیے، میرے عاشقوں کو اور زیادہ پیار کیجیے۔ معلوم ہوا کہ مرید کو بھی بشرطِ اخلاص شیخ کے دل میں اللہ تعالیٰ محبوب کردیتا ہے۔جب یہ آیت نازل ہوئی: فَمَنۡ یُّرِدِ اللہُ اَنۡ یَّہۡدِیَہٗ یَشۡرَحۡ صَدۡرَہٗ لِلۡاِسۡلَامِ توحدیث پاک میں ہے فَصَعِدَ عَلَی الْمِنْبَرِ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجدِ نبوی کے منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا: آج یہ آیت نازل ہوئی ہے کہ اللہ جس کی ہدایت کا ارادہ کرتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔ یہاں اَنْ مصدریہ ہے تو معنیٰ یہ ہوئے کہ فَمَنْ یُّرِدِ اللہُ ھِدَایَتَہٗاللہ تعالیٰ جس کی ہدایت کا ارادہ کرتا ہے۔ معلوم ہوا کہ جس کی ہدایت کا اللہ ارادہ کرے جس کو اللہ مراد بنالے، جس کو اللہ پیار کرے وہ نالائقی اور کمینہ پن نہیں کرسکتا، وہ خود بخود باوفا ہوتا چلا جاتاہے، ہرحکم مان لیتا ہے، ہر نافرمانی سے اپنے کو بچالیتا ہے، اللہ اس کے دل کو شیر کی طرح بنادیتا ہے، کیوں کہ یہ اﷲ کا مراد ہوچکا ہے، اب اگر وہ خود بھی ------------------------------