آفتاب نسبت مع اللہ |
س کتاب ک |
|
الدین رومی، کوئی شمس الدین تبریزی مل جاتا تو وہ اپنی روحانیت کی برکت سے مجنوں کے عشقِ لیلیٰ کو عشقِ مولیٰ سے بدل دیتے۔ آہ! اﷲ ہر زمانے میں شمس الدین تبریزی پیدا کرتا ہے، آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں کہ ان کی صحبت میں اگر رہو تو اﷲ تعالیٰ کے کرم سے آپ کے، ہمارے اور ساری دنیا کے عشق کو غیر اﷲ سے نجات مل کر اﷲ کا عشق مل جائے۔ زندگی کا دوسرا رُخ یہ ہے کہ شیطان کہتا ہے کہ خوب مزہ کرو، کالی اور گوری کسی کو نہ چھوڑو، سب کو دیکھو اور حرام مزے حاصل کرو، ایسے خبیثوں کے لیے اﷲ تعالیٰ کا اعلان ہے: وَ مَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡ ذِکۡرِیۡ فَاِنَّ لَہٗ مَعِیۡشَۃً ضَنۡکًا ؎ جو مجھے ناراض کرکے حرام مزے لوٹے گا تو جو تمہاری زندگی کا خالق ہے اس کا اعلان ہے کہ تمہاری زندگی ہم کڑوی کردیں گے، تلخ کردیں گے، تم پریشان رہو گے حَیٰوۃً طَیِّبَۃً سے محروم رہو گے، بالطف زندگی سے محروم رہو گے، لاکھ عرقِ بید مشک پیو اور خمیرہ کھاؤ، دل کی گھبراہٹ اور بے چینی نہیں جائے گی۔ یہ میں حکیم ہونے کی حیثیت سے اپنے ستّر سال کے مریضوں کا تجربہ بتارہا ہوں۔ جن لوگوں نے حسینوں سے دل لگایا مولیٰ کو چھوڑا اور نظر کی حفاظت نہیں کی، ایسے لوگوں کی زندگی ایسی مصیبت میں تھی کہ نہ ان کو موت آئی نہ زندگی ملی۔ حکیم الامت تھانوی فرماتے ہیں کہ جو مولیٰ کو چھوڑ کر لیلاؤں کے چکر میں پڑتا ہے اس کی زندگی دنیا ہی میں دوزخی ہوجاتی ہے اور دوزخی زندگی ہے لَایَمُوْتُ فِیْہَا وَلَا یَحْیٰی؎ یعنی دوزخ میں نہ موت آئے گی نہ زندگی ملے گی، موت اور زندگی کے درمیان کشمکش ہوگی۔ آج بھی وہ لوگ جو نظر کی حفاظت نہیں کرتے اور حسینوں کی تلاش میں ہیں ایسے لوگوں کو نہ موت آتی ہے نہ زندگی ملتی ہے، دوزخ کی جو حیات ہے وہی حیات مجر مین گناہ گاروں اور نافرمانوں کو اﷲ دنیا میں دیتا ہے۔ حکیم الامت مجدد الملت، ہمارے دادا پیر کا ارشاد ہے کہ عشق غیراﷲ یعنی جو لوگ مولیٰ کو چھوڑ کر لڑکیوں اور لڑکوں کے عشق میں رہتے ہیں یہ عشق بازی عذابِ الٰہی ہے، انہیں دنیا ہی میں جہنم مل جاتی ہے۔ اور حاجی امداد اﷲ صاحب رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ شکلوں پر مت مرو،یہ صورت چند دن میں بدل جاتی ہے، جب شکل بگڑ جاتی ہے تو پھر وہی محبت نفرت اور عداوت سے تبدیل ہوجاتی ہے، جن کو ہر وقت گلاب جامن، ------------------------------