آفتاب نسبت مع اللہ |
س کتاب ک |
|
آنسوؤں کو پونچھتی ہے اور خود بھی رونے لگتی ہے اور کہتی ہے: بیٹا مت گھبراؤ، جب تم اچھے ہوجاؤگے تو تمہارے بھائی جتنا کباب کھارہے ہیں اس سے زیادہ ہم تمہیں کباب کھلائیں گے۔ تو جب ماں کی رحمت اور مامتا اور پیار اس درجہ ہے تو اللہ تعالیٰ جو ماؤں کی رحمت کا خالق ہے، اس کا اعلان ہورہا ہے ؎ مادراں را مہر من آموختم چوں بود شمعے کہ من افروختم اے دنیا والو! اور ماؤں کی محبت پر ناز کرنے والو!ماؤں کو محبت کرنا میں نے ہی تو سکھایا ہے،لہٰذا میرےآفتابِ رحمت کا کیا حال ہوگا ، بھلا اللہ تعالیٰ کو پیار نہ آئے گا؟ اس پر میرا شعر ہے ؎ مرے حسرت زدہ دل پر اُنہیں یوں پیار آتا ہے کہ جیسے چوم لے ماں چشمِ نم سے اپنے بچے کو جب ہم نظر بچا کر حسرت کا زخم کھاتے ہیں تو اللہ کی رحمت ہمارے دل کا پیار لیتی ہے اور وہ پیار ایسا ہوتا ہے جس کو کوئی دوسرا نہیں جانتا فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِیَ لَہُمۡ مِّنۡ قُرَّۃِ اَعۡیُنٍ؎ نکرہ تحت النفی ہے، جو فائدہ عموم کا دیتا ہے یعنی کوئی نفس بھی یہاں تک کہ ایک ولی بھی دوسرے ولی کی اس لذتِ پیارکو نہیں سمجھ سکتا۔ نفس میں ولی کا نفس بھی شامل ہے۔ مختصر المعانی کا قاعدہ یہاں لگائیے۔ مگر یہ تفسیر نہیں لطائفِ قرآن سے ہے کہ گناہ سے بچنے کےغم میں اللہ اپنے عاشقوں کو جو آنکھوں کی ٹھنڈک دیتا ہے ، ان کے دل کا جو پیار لیتا ہے اس پیار کی لذت کو صرف وہی دل سمجھتا ہے جس کو وہ عطا ہوا کہ اللہ نے اسے کیا پیار اور کیا حلاوتِ ایمانی دی، دوسرے کو اس کی خبر نہیں ہوتی۔ ماں جب اپنے بچے کو چومتی ہے تو ماں کا پیار تو نظر آتا ہے لیکن اللہ کی رحمت کا پیارنظرنہیں آتا، کیوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیار کو مخفی طور پر اپنے عاشقوں کو دیتے ہیں مَاۤ اُخۡفِیَ لَہُمۡ خود دلیلِ اِخفاء ہے، اس اِخفاء میں مصلحت یہ ہے کہ میرے بندے کو نظر نہ لگ جائے جیسے ماں اپنے بچے کی دودھ کی شیشی پر کپڑا لپیٹ دیتی ہے اور اپنے دوسرے پیارے بچوں سے چھپا کر اپنے پیارے کو دودھ پلاتی ہے، تاکہ کہیں ان پیاروں کی نظر اس پیارے کو نہ لگ جائے، تو اللہ تعالیٰ بھی اپنے اولیاء سے چھپا کر اپنے اولیاء کو اپنی رحمت کا پیار دیتے ہیں، تاکہ ایک کو دوسرے کی نظر نہ لگ جائے۔ یہ حسّی مثال اللہ تعالیٰ نے میرے قلب کو عطا فرمائی۔ مَاۤ اُخۡفِیَ لَہُمۡسے خود ظاہر ہے کہ ------------------------------