آفتاب نسبت مع اللہ |
§س کتاب ک |
|
آپ کا ایک بال نہیں اُکھاڑ سکتی، اختر ذمہ داری لیتا ہے۔ اب دو اسڑکچر کے بعد دو فنشنگ بھی سن لو۔ یہ دو ظاہری اعمال تھے، دو عمل باطن کے بتاتا ہوں، ان شاء اﷲ ان پر عمل کرنے سے پورے دین پر عمل کرنا آجائے گا: ۳)اپنی نظر کی حفاظت کرو نامحرم عورتوں اور حسین لڑکوں سے، کسی کالی اور گوری کو مت دیکھو اور کسی کالے اور گورے کو بھی مت دیکھو، کیوں کہ بدنظری کرنے والے پر حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی بددعا ہے اور نظر کی خرابی سے دل بھی خراب ہوجاتا ہے اور دل اسی دلبر کے پاس چلا جاتا ہے ؎ ہر کہ او دل بدستِ دلبرے دادہ ست ریشِ خود بدستِ دیگرے دادہ ست سعدی شیرازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جس نے کسی معشوق کو دل دیا اس نے اپنی داڑھی اس کے ہاتھ میں دے دی کہ وہ جب چاہے آپ کو ذلیل کردے۔ لہٰذا نظر بچاؤ، نظر سے دل بچے گا اور آبرو بچے گی اور آپ اس کے گراؤنڈ فلور میں اِن(in) نہیں ہوں گے، باعزت رہیں گے اور دل میں مولیٰ رہے گا، کیوں کہ نظر سے لیلیٰ دل میں گھسے گی، جب دل میں لیلیٰ گھسے گی تو مولیٰ ناراض ہو کر ایسے گندے دل میں نہیں رہے گا، کیوں کہ جب لیلیٰ آئے گی تو فرسٹ فلور کے ساتھ نہیں آئے گی گراؤنڈ فلور کی چیزیں بھی لائے گی، دل گندا ہوجائے گا اور گندے دل میں اﷲ نہیں رہتا، وہ دل تجلی خاص سے محروم ہوجائے گا۔ ۴)ایک فنشنگ اور ہے کہ آپ نے سرحد تو بچالی لیکن دل جو کیپٹل، دارالخلافہ ہے اس کو بھی بچاؤ، اس میں بھی قصداً گندے خیال نہ لاؤ،پر انے گناہ کو بھی یاد نہ کروجس سے توبہ کرچکے ہو۔ شیطان دیکھتا ہے کہ اب یہ ملّا ہوگیا، اب گناہ نہیں کرے گا تو اس کو ماضی کے پچھلے گناہ یاد کرائے گا، فرسٹ ایئر میں لے جائے گا کہ بھئی اس کو پرانا فیچر دکھادو، شیطان بڑا ٹیچر ہے مگر انتہائی چیٹر ہے، تو گناہ کے خیالات سے دل بھی بچاؤ اور آنکھ بھی بچاؤ۔ تو دو اسٹرکچر ہوگئے اور دو فنشنگ ہوگئیں۔ جو ان چار باتوں پر عمل کرلے گا ان شاء اﷲ ولی اﷲ ہوجائے گا، چھوٹے بڑے سب گناہ چھوڑنا اس کو آسان ہوجائے گا اور جب اللہ ہمیں جذب فرمالے گاتو پورے دین پر عمل کرنا نہ صرف آسان بلکہ لذیذ بھی ہوجائے گا۔ اب دعا کرو کہ اﷲ عمل کی توفیق دے، اﷲ تعالیٰ اپنی رحمت سے قبول فرمائے، ہماری حاضری کو، میرے احباب کے سفر کو، میرے سامعینِ کرام کو، سب کو قبول فرمائے اور توفیق دے دے، یا اﷲ! اپنی رحمت سے چاروں اعمال کی توفیق نصیب فرما دے، آمین۔ وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ