آفتاب نسبت مع اللہ |
س کتاب ک |
|
فاصلہ ہوگیا مثلاً انڈوں کو مرغی کے نیچے سے اُٹھالیا یا مرغی کو بھگادیا یا چار دن انڈوں کو رکھ دیا اور چار دن اُٹھالیا تو انڈوں میں جان نہیں آئے گی، کیوں کہ انڈوں میں جان آنے کے لیے اکیس دن مسلسل گرمی پہنچاناضروری ہے، اس لیے اگر مرغی یہاں سے ڈربن جائے تو انڈوں کو بھی ڈربن جانا پڑے گا۔ اگرمرغی ہوائی جہاز سے جائے توانڈوں کو بھی ہوائی جہاز کاٹکٹ دینا پڑے گا، اگر وہ ریل سے جائے تو انڈوں کو بھی ریل سے جانا پڑے گا، اگر بس یا موٹر سے جائے تو انڈوں کو بھی بس یا موٹرسے جانا ہوگا۔ اس طرح مسلسل گرمی پہنچانے سے اکیس دن کے بعد ان مردہ انڈوں میں جان آجاتی ہے اور بچہ اپنی چونچ سے انڈے کا چھلکا توڑ کر باہر آجاتا ہے۔ حکیم الامت مولانا تھانوی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ جس طرح حیوانی زندگی کے لیے اکیس دن مسلسل انڈوں کا مرغی کے پروں کی گرمی میں رہنا ضروری ہے، اسی طرح انسان کی ایمانی زندگی کے لیے کم از کم چالیس دن مسلسل شیخ کی صحبت میں رہنا ضروری ہے، شیخ سے الگ نہ ہو، اگر شیخ سفر پر کہیں جائے تو مُرید بھی ساتھ جائے۔ جتنا ہو سکے زیادہ سے زیادہ شیخ کے ساتھ رہے۔ میرے شیخ شاہ عبدالغنی صاحب رحمۃ اﷲ علیہ نے میرے بارے میں فرمایا تھا کہ اختر میرے ساتھ اس طرح رہتا ہے جیسے دودھ پیتا بچہ ماں کے پیچھے پیچھے پھرتا ہے۔ میں اپنے شیخ کے ساتھ اسی طرح رہتا تھا کہ معلوم نہیں کس وقت کیا مل جائے۔ پہلے بزرگ تو اپنے شیخ کے ساتھ دو دو سال رہتے تھے، لیکن اب کاروبار اور مصروفیت کی زیادتی سے اور دین کی قلّتِ طلب سے شیخ العرب و العجم حضرت حاجی امداد اﷲ صاحب مہاجر مکی رحمۃ اﷲ علیہ نے یہ مدت دو سال کے بجائے چھ ماہ کردی اور حضرت حکیم الامت مولانا تھانوی رحمۃ اﷲ علیہ نے چالیس دن کردی اور فرمایا کہ اگر کوئی مسلسل چالیس دن اخلاص کے ساتھ اور اصولوں کی پابندی کے ساتھ شیخ کی صحبت میں رہ لے تو ان شاء اﷲ تعالیٰ روح میں ایمانی حیات آجائے گی، اور جس طرح انڈے میں جب جان آجاتی ہے اور پورا بچہ بن جاتا ہے تو وہ اپنی ماں کو نہیں بلاتا کہ اماں! آؤ میرا چھلکا توڑ دو، تاکہ میں باہر نکلوں بلکہ اپنی چونچ سے خود چھلکا توڑ کر باہر آجاتا ہے۔ جس طرح حیوانی حیات میں اﷲ تعالیٰ نے یہ طاقت دی ہے کہ وہ چھلکے کی بندش اور رکاوٹ کو خود توڑ کر باہر نکل آتا ہے، اسی طرح شیخ کی صحبت کی برکت سے جب سالک کی روح میں ایمانی حیات آتی ہے تو اﷲ تعالیٰ اس کو ایسی طاقت دیتے ہیں کہ و ہ خود ہی غفلت کی تمام زنجیروں کو توڑدیتا ہے، وہ اپنی طاقتِ ایمانی سے غفلت ونافرمانی کے اعمال اور غلط ماحول کی بندشوں سے نکل کر اﷲ تعالیٰ کی فرماں برداری کی زندگی میں آجاتا ہے، اس کی زندگی ایک نئی کروٹ لیتی ہے اور وہ معاشرہ کو خاطر میں نہیں لاتا۔ اورمرغی جب انڈوں پر بیٹھتی ہے تو انڈوں کو چھوڑ کر دانہ چگنے بھی نہیں جاتی۔ اس کا دانہ پانی مالک