آفتاب نسبت مع اللہ |
س کتاب ک |
|
ایک شاعر کہتا ہے ؎ مستند رستے وہی مانے گئے جن سے ہو کر تیرے دیوانے گئے آہ کو نسبت ہے کچھ عشاق سے آہ نکلی اور پہچانے گئے اس کے بعد مولانا منصور الحق نے اپنا کلام پیش کیا جس کا مقطع ہے ؎ جنت اگر اسے ترے صدقے میں ہو عطا ناصرؔ نہ جائے گا مرے آقا ترے بغیر یہ شعر محتاجِ شرح ہے۔ حضرت مفتی محمد حسن امرتسری رحمۃ اﷲ علیہ نے حکیم الامت سے عرض کیا کہ اگر اﷲ قیامت کے دن مجھ سے فرمائیں کہ تو جنت میں جائے گا یا اپنے شیخ کی مجلس میں جو جنت سے دور ہورہی ہے وہاں جائے گا؟ تو میں اپنے پیر و مرشد حکیم الامت مجدد الملت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی کی مجلس میں جاؤں گا اور جنت میں نہیں جاؤں گا، جہاں ہمارا پیر نہیں ہوگا۔ تو مفتی صاحب کی اس بات پر حضرت حکیم الامت نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ تم نے نامناسب بات کہی ہے یا عقیدے میں غلو کیا ہے، یہ غلو فی العقیدہ نہیں ہے اور نہ عقیدے میں فلو ہے، بلکہ حضرت نے فرمایا کہ مرید کو اپنے شیخ سے ایسی ہی محبت رکھنی چاہیے، پھر علماء کے لیے جواب عطا فرمایا کہ کسی کو وسوسہ آسکتا ہے کہ جنت کی نعمت کو شیخ کی مجلس کے لیے چھوڑ رہے ہیں، تو یہ جنت کا اور اشرف علی کی مجلس کا تقابل نہیں ہے، بلکہ اﷲ تعالیٰ کا تقابل ہے جنت سے، کیوں کہ آپ نے مجھے اﷲ کے لیے پیر بنایا ہے دنیا کے لیے پیر نہیں بنایا، تو گویا اس عقیدے کا حاصل یہ ہوا کہ اگر اﷲ تعالیٰ کسی کو بلائے کہ اے مومن! میرے پاس آجا اور وہ کہے کہ نہیں میں جنت میں جاؤں گا تو جب اﷲ کا جنت سے تقابل ہو گا تو اﷲ افضل ہے، اﷲ ہی کے پاس جانا چاہیے، تو پیر کے پاس جانا گویا جنت سے افضل کے پاس جانا ہے، کیوں کہ پیر خالقِ جنت کا حامل ہے، جنت حاملِ نعمت ہے او ر اﷲ والے حاملِ منعم ہیں۔ یہ ہے فَادۡخُلِیۡ فِیۡ عِبٰدِیۡ؎ اﷲ نے یہ نہیں فرمایا کہ جنت میں جاکر نعمتیں اُڑانا شروع کردو اور ------------------------------