آفتاب نسبت مع اللہ |
§س کتاب ک |
|
آہ! کیا شعر یاد آگیا اس وقت۔یہ آپ لوگوں کی کرامت ہے۔یعنی جو زندگی اپنے مالک اور خالق اور پیدا کرنے والے پر قربان ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس بندے کی زندگی پر بے شمار زندگی اور برسا دیتا ہے، ایسی زندگی برساتا ہے کہ جو اس کے پاس بیٹھتے ہیں وہ بھی زندہ ہوجاتے ہیں، مردہ دل بھی زندہ ہوجاتا ہے، ان کو ایک نئی حیاتِ ایمانیہ عطا ہوتی ہے، تو یہ جینا ہوگیا۔ اب اگر کوئی سوال کرے کہ مرنا کیا چیز ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ نفس کی بُری خواہش کو مارنا اللہ پر مرنا ہے۔ اپنی بُری خواہش جس سے نفس خوش ہو لیکن اللہ ناراض ہو ایسی خوشیوں کا خون کردو اور مالک کو خوش کرلو یعنی اپنی حرام خوشیوں کا خون کرنا اور اپنے اللہ کو خوش کردینا، اپنی حرام خوشیوں کو چھوڑ دینا، خونِ تمنا اور خونِ آرزو کرلینا اور اس دریائے خون سے گزرنا اسی کا نام ہے اﷲ پر مرنا۔ اس پر اب ایک قصّہ سناتا ہوں کیوں کہ قصّے سے ذرا مزہ آتا ہے اور یہ ہمارے بزرگوں کا طرز ہے بلکہ طرزِ قرآنِ پاک بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں بندوں کی ہدایت کے لیے قصص بیان فرمائے ہیں۔ مولانا رومی فرماتے ہیں کہ ایک باغ میں ایک چڑیا تھی، شاخوں پر اُڑتی پھرتی تھی، گلستاں میں عیش سے رہتی تھی، اس کو کسی شکاری نے شکار کرکے پنجرے میں بند کردیا۔ ایک دن اس کو رحم آیا اور اس نے چڑیا سے کہا کہ جس باغ میں تیرا اصلی آشیانہ تھا اور جس باغ میں تو ایک شاخ سے دوسری شاخ پر اُڑا کرتی تھی میں وہاں جارہا ہوں۔ تجھے اپنی ساتھی چڑیوں کو کوئی پیغام تو نہیں دینا؟ تو اس چڑیا نے کہا کہ میری ایک بہت ہی خاص دوست ہے۔ فلاں درخت کی فلاں شاخ پر اس کا نشیمن ہے۔ اس چڑیا کو بس اتنا بتادینا کہ ہم چمن کی یاد میں غم زدہ ہیں اور پنجرے میں ہم شکار ہوچکے ہیں۔ اس نے سوچا اس پیغام کے کہنے میں ہمارا کیا نقصان ہے۔ چڑیا تو نکل نہیں سکتی جب تک ہم نہ نکالیں۔ اس نے جب اس چڑیا کو خبر دی کہ تیری جو دوست تھی وہ آج کل شکار ہوچکی ہے اور ہمارے پنجرے میں ہے، لیکن تجھ کو سلام کہا ہے اور پیغام دیا ہے کہ ذرا ہمیں بھی یاد رکھنا۔ بس اتنا سنتے ہی وہ چڑیا مردہ ہوگئی اور درخت سے گرگئی، آنکھیں اُلٹ دیں، مصنوعی موت اپنے اوپر طاری کرلی۔ مری نہیں تھی لیکن مثل مردہ کے ہوگئی، پہلے تڑپی اور پھر اپنے کو بے حس و حرکت کرلیا کہ وہ پیغام دینے والا شکاری سمجھے کہ یہ مرگئی ہے۔ جب وہ واپس آیا تو پنجرے والی چڑیا نے پوچھا کہ میری دوست کو میرا پیغام دیا تھا؟ اس نے کہا ہاں پیغام تو دیا تھا، تو چڑیا نے کہا: اس نے کیا جواب دیا؟ کہا کہ تمہارا پیغام سن کر وہ ایک دم تڑپ کر پھڑپھڑائی اور مرگئی۔ یہ خبر سنتے ہی یہ چڑیابھی تڑپ کے پھڑپھڑا ئی اور مرگئی یعنی مصنوعی موت طاری کرلی اور مثل مردہ کے ہوگئی۔ شکاری نے سوچا کہ مری ہوئی چڑیا کو اب پنجرے میں رکھ کر کیا کرنا ہے، لہٰذا اس کو نکال کے باہر پھینک دیا اور جیسے ہی باہر پھینکا وہ اُڑ گئی۔ مولانا رومی اس سے یہ نصیحت