آفتاب نسبت مع اللہ |
§س کتاب ک |
|
اس لیے آج اﷲ تعالیٰ نے میرے قلب میں یہ مضمون عطا فرمایا کہ جو اخلاقِ رذیلہ اور گناہوں کے تقاضوں کے کڑوے پانی سے بھرے ہوئے ہوں اور اﷲ کا کوئی بندہ ان کے پاس آجائے تو اس کے ساتھ سفر کرلو، پھر جب تم بادلوں کی طرح برسو گے تو کڑوے نہیں رہو گے میٹھے برسو گے، اس لیے اگر وہ اﷲ والا تمہیں ہائی جیک کرلے تو خوشی خوشی اس کے ساتھ چلے جاؤ اور یہ سمجھو کہ یہ میرے کڑوے پانی کو میٹھا پانی بنائیں گے۔ مولانا شاہ محمد احمد صاحب رحمۃاﷲ علیہ فرماتے تھے کہ اﷲ والوں کو بادل سمجھو اور اس پر ایک شعر فرمایا تھا ؎ رحمت کا ابر بن کے جہاں بھر میں چھائیے عالم یہ جل رہا ہے برس کر بجھائیے اس لیے سارے عالم میں علماء دین کے سفر کو نعمت سمجھو اور جلدی سے اس کے ہائی جیک میں شامل ہوجاؤ پھر ان شاء اﷲ تم ایسے میٹھے بنو گے کہ میٹھے برسو گے بھی، تمہارا پانی بھی میٹھا برسے گا اور چند دن کے بعد تم خود حیرت میں آجاؤ گے ؎ تو نے مجھ کو کیا سے کیا شوقِ فراواں کردیا پہلے جاں پھر جانِ جاں پھر جانِ جاناں کردیا حیرت کروگے کہ ہم کیا تھے اور کیا سے کیا ہوگئے۔ بھیکا شاہ نے اپنے شیخ شاہ ابوالمعالی سے کہا کہ ؎ بھیکا معالی پہ واریاں دن میں سو سو بار کاگا سے ہنس کیو اور کرت نہ لاگی بار اے بھیکا شاہ!اپنے شیخ شاہ ابو المعالی پر دن میں سوسو بار قربان ہوجاکہ تو کوّا تھا، گو کھاتا تھا، گناہ کرتا تھا، اﷲ نے تیرے مرشد شاہ ابو المعالی کے صدقے میں تجھے کوے سے ہنس چڑیا بنا دیا اور دیر بھی نہیں لگائی۔ اس طرح اﷲ انقلاب دیتا ہے۔ کیا کہیں دوستو! ایک دن آنکھ بند ہوجائے گی پھر پچھتانے سے کچھ نہیں ہوگا، جلدی کرو، اﷲ والا بننے میں دیر مت کرو، کیوں کہ کچھ بھروسہ نہیں کہ اﷲکب بلا لے۔ میرے شیخ اعظم گڑھ کی پوربی زبان میں اکثر یہ شعر پڑھا کرتے تھے ؎ نہ جانے بلا لے پیا کس گھڑی تو رہ جائے تکتی کھڑی کی کھڑی