آفتاب نسبت مع اللہ |
§س کتاب ک |
|
اے ہوائے کوئے جاناں اس قدر خوشبو ہے کیوں سخت حیرت ہے کہ سب کی ناک پر انگلی ہے کیوں عبارۃ النص کی تکمیل اشارۃ النص سے کررہا ہوں، انگریزی میں اس کا نام کمپلیٹنگ ہے۔ اب دوسرا شعر سن لیجیے ؎ ماہ رو کو جاجرو میں دیکھیے پاؤ گے پولینڈ اور اسکاٹ لینڈ یعنی ان سے نفرت کے لیے مراقبے میں دیکھیے،یہ نہیں کہ جاکے دروازہ کھول دو ورنہ تو مار پٹائی شروع ہوجائے گی۔ اور تیسرا شعر ہے ؎ جب ہوا کھولی کسی معشوق نے میر بولے واہ میرے پادشاہ بولیے حسینوں کی عظمت ختم ہوئی یا نہیں؟ بادشاہ کو فارسی میں پادشاہ اور بادشاہی کو پادشاہی، بادشاہان کو پادشاہان بولا جاتا ہے اورحقیقت بھی یہی ہے، لہٰذا اﷲ کا شکر ہے کہ جس نے ہمیں لا الٰہ کو مقدم کر کے یہ حقیقت سمجھا دی کہ ؎ لا الٰہ ہے مقدم کلمۂ توحید میں غیر حق جب جائے ہے تب دل میں حق آجائے ہے کیوں کہ چہرہ ترجمان ہے قلب کا، قلب میں اگر نفاق ہے تو چہرہ ترجمانِ نفاق ہوگا، کفر ہے تو چہرہ ترجمانِ کفر ہوگا، لیلیٰ ہے تو چہرہ ترجمانِ لیلیٰ ہوتا ہے بمع اس کے گراؤنڈ فلور ، اس کے چہرے اور اس کی شرم گاہ کے جغرافیہ کے اور لَعَنَ اللہُ النَّاظِرَ وَ الْمَنْظُوْرَ اِلَیْہِ؎ کی حدیث کی رُو سے بدنظری کے گناہ کی نحوست کی لعنت الگ برستی ہے، اور جس کے قلب میں مولیٰ ہوتا ہے تو اس کا چہرہ ترجمانِ مولیٰ ہوتا ہے۔ یہ حدیث اِذَا رُأُوْا ذُکِرَ اللہُ؎کی شرح ہورہی ہے یعنی اﷲ والے وہی ہیں جن کو دیکھ کر اﷲ یاد آئے کیوں کہ ان کے قلب میں مولیٰ ہے، وہ اپنے قلب کے نور کو غیر اﷲسے پاک کرتے رہتے ہیں، اس لیے ان کا چہرہ ترجمانِ مولیٰ ہوتا ہے۔جیسے افریقہ میں جہاں سونا نکلتا ہے تو سونے کی صحبت کی وجہ سے وہاں کی ------------------------------