آفتاب نسبت مع اللہ |
س کتاب ک |
|
بزرگ نے خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ کیا ہوا؟ اس نے کہا کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم نے کھانے میں بیوی کے نمک تیز کرنے پر اس کی پٹائی نہیں کی، گالی نہیں دی، اس ادا کو میں نے قبول کر لیا، اس لیے تم کو معاف کرتا ہوں۔ تو معلوم نہیں قیامت کے دن کس کا کیا عمل قبول ہوجائے؟ لہٰذا روزانہ یہ جملے کہا کرو کہ اے اﷲ! میں سارے عالم کے مسلمانوں سے کمتر ہوں، سارے عالم کے مسلمان مجھ سے اچھے ہیں، کیوں کہ مجھے نہیں معلوم کہ آپ کے یہاں میرا کیا عمل قبول ہے کیا نہیں قبول۔ نمبر۲۔ حکیم الامت فرما رہے ہیں کہ اے خدا! اشرف علی سارے دنیا کے جانوروں اور کافروں سے بھی بدتر ہے، کیوں کہ نہیں معلوم کہ میرا خاتمہ کیسا ہوگا؟ بتاؤ! اگر خاتمہ خراب ہوجائے تو کتے اور سور ہم سے بہتر ہیں یا نہیں؟ لہٰذا یہ دو جملے آپ لوگ یاد کرلیں۔ میرے دل میں ابھی اﷲ نے یہ عطا فرمایا کہ میں اپنے ساتھیوں کو تکبر کی حالت میں موت سے بچاؤں اور خود بھی بچوں، لہٰذا یہ دو جملے یاد کرلو کہ اے اﷲ! سارے دنیا کے مسلمان ہم سے بہتر ہیں فی الحال اور ہم سب سے کمتر ہیں اور سارے دنیا کے کافر اور جانور ہم سے بہتر ہیں فی المآل۔ یہ دونوں الفاظ یاد رکھنا فی الحال اور فی المآل یعنی انجام نہ معلوم کیا ہو۔ مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اﷲ علیہ نے خواب میں ایک ہندو کو جنت میں دیکھا، پوچھا کہ لالہ جی تم جنت میں کیسے ٹہل رہے ہو؟ اس نے کہا کہ مولوی صاحب مرتے وقت کلمہ پڑھ لیا تھا۔ تو کسی کو کیا حقیر سمجھیں؟ لیکن کفر سے نفرت ہم پر واجب ہے اور کافر کو حقیر سمجھنا حرام ہے، نکیر واجب ہے تحقیر حرام ہے۔ اب کوئی کہے کہ صاحب یہ تو بہت مشکل ہے کہ ہم کافر کواپنے سے حقیر نہ سمجھیں۔ اس کا جواب حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ نے یہ دیا کہ چاند کی طرح ایک نہایت خوبصورت شہزادہ ہے مگر اپنے منہ پر کالی روشنائی لگالی، تو روشنائی کو تو حقیر سمجھو اس کے چہرے کو حقیر نہ سمجھو، کیوں کہ جب صابن سے دھو کر کے آجائے گا تو پھر سے صاف ستھرا اور حسین ہوجائے گا، ایسے ہی کافر ہے کہ ممکن ہے کہ مرتے وقت کلمہ پڑھ لے اور مسلمان ہوجائے۔ اس حقیقت کی تائید میں مولانا رومی فرماتے ہیں ؎ ہیچ کافر را بخواری منگرید کہ مسلمان بودنش باشد امید کسی کافر کو حقارت سے مت دیکھو کیوں کہ اﷲ کی توفیق سے وہ بھی مسلمان ہوسکتا ہے، ایسے کتنے لوگ ہیں جو مرنے سے پہلے مسلمان ہوگئے۔ اس لیے کہتا ہوں کہ بعض وقت میں زیادہ عبادت کرنے والوں ہی کو شیطان گمراہ کرتا ہے کیوں کہ وہ خود بھی بہت عبادت کرتا تھا لیکن تکبر کی وجہ سے مردود ہوگیا۔ اسی لیے مفتی اعظم