آفتاب نسبت مع اللہ |
§س کتاب ک |
|
کہ ان کو دیکھ لو تو حضور صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تم ایک جملہ پڑھ لو، یہ شیاطین کی کھوپڑیوں پر ڈی ڈی ٹی کاکام کرے گا اور سارے وسوسے ختم ہوجائیں گے۔ وہ جملہ ہے: اٰمَنْتُ بِاللہِ وَرُسُلِہٖ رُسُلْرسول کی جمع ہے، کیا مطلب؟ کہ میں ایمان لایا اﷲ پر اور اس کے رسولوں پر۔ اس جملے میں اﷲ تعالیٰ نے وہ اثر رکھا ہے کہ اس اثر کا سرورِ عالم صلی اﷲ علیہ وسلم خود زبانِ نبوت سے اعلان فرمارہے ہیں۔’’جامع صغیر‘‘ کی روایت ہے کہ میرا جو امتی اس کو پڑھے گا اس کا وسوسہ دور ہوجائے گا یعنی شیطان بھاگ جائے گا۔؎ میں نے ایک مرتبہ اسے بیان کیا تو لوگوں نے بتایا کہ صاحب عجیب وغریب وظیفہ ہے، جب بھی لڑکیاں نظر آتی ہیں ہم فوراً اس کو پڑھ لیتے ہیں اور پھر ہمارے قلب میں وسوسہ بھی نہیں آتا، کیوں کہ اﷲ کی عظمت دل میں آجاتی ہے، رسولوں کی عظمت آجاتی ہے کہ اﷲ اور اس کے پیغمبروں نے ہم کو یہ بتایا ہے کہ یہ کام کمینوں کا ہے، تم تو کمینے نہیں ہو، تم تو شریف آدمی ہو، سیّد زادے ہو، داڑھی رکھے ہوئے ہو، سر پر گول ٹوپی ہے، اﷲ والوں سے تعلّق رکھتے ہو، اتنے شریف ہو کر کہاں دیکھتے ہو؟ اس تصور سے شرم آتی ہے۔ شیطان کا ایک گروہ ہے جو وضو میں وسوسہ ڈالتا ہے، لوگ ایک ایک گھنٹہ تک وضو کرتے ہیں، ان کو اطمینان ہی نہیں ہوتا، یہ مرض ہے۔ تو حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وسوسوں پر عمل مت کرو، وضو کا وسوسہ ڈالنے والے شیطان کا نام ولھان ہے۔ اور شیطان کا ایک گروہ ہے جونماز میں وسوسہ ڈالتا ہے کہ یہ نہیں پڑھا، وتر کی نماز میں شبہ ہورہا ہے کہ ہم نے دعائے قنوت پڑھی کہ نہیں۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ رکوع میں جاتے جاتے اگر خیال آجائے کہ ہم نے دعائے قنوت نہیں پڑھی تو سجدۂ سہو کرلو، لیکن اگر سجدے میں خیال آئے کہ ہم نے دعا نہیں پڑھی تو اس شبہ کا کوئی اعتبار نہیں، اس شبہ سے سجدۂ سہو واجب نہیں ہوتا۔ جب رکوع میں جائے اور اُس وقت خیال آجائے کہ دعائے قنوت نہیں پڑھی، تو چوں کہ رکوع قیام کے بعد پہلا رکن ہے اس لیے اس شبہ پر عمل کرلو اور سجدۂ سہو کرلو لیکن اگر سجدے میں یا التحیات میں خیال آیا تو فکر نہ کرو، سمجھ لو کہ ہم نے دعائے قنوت پڑھ لی ہے۔ تو آج دو سبق ملے، کیوں کہ آج سفر ہے اس لیے میں نے سوچا کہ زیادہ لمبی بات نہیں ہوگی۔ ایک لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللہْ کا وظیفہ ملا اور دوسرا اٰمَنْتُ بِاللہِ وَرُسُلِہٖ کا۔اب دعا کریں کہ اﷲ سلامتیٔ ایمان ------------------------------