محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
’’یوگا‘‘ درحقیقت ’’ سوریہ پوجا ‘‘ہے مسئلہ(۶۶۸): ’’یوگا‘‘ جس کو آج کل ریاضت کا نام دیا گیا ہے، حقیقت میں سورج کی پرستش ہے، کیوں کہ اس ریاضت کے دوران سنسکرت زبان میں ایسے الفاظِ شرکیہ پڑھے جاتے ہیں ، جن سے سورج کی عبادت اور تعظیم مقصود ہوتی ہے، نیز یہ بد ہسٹ قوم کا شعارہے،ان کے اس شعار کو اپنانا گویا ان کی مشابہت اختیار کرنا ہے، جب کہ اس طرح کی مشابہت، ناجائز ومنع ہے، لہٰذا ’’یوگا‘‘ بھی ناجائز ومنع ہونا چاہیے۔(۱) ------------------------------ والحجۃ علی ما قلنا : (۱) ما في ’’ القرآن الکریم ‘‘ : {ولا ترکنوآ إلی الذین ظلموا فتمسّکم النار}۔(ہود :۱۱۳) ما في ’’ التفسیر المظہري ‘‘ : قال ابن عباس : أي لا تمیلوا ، والرکون المحبۃ والمیل بالقلب ، وقال أبو العالیۃ : لا ترضوا بأعمالہم ، وقال السدي : لا تداہنوا الظلمۃ ، وقال عکرمۃ : لا تطیعوہم ، وقیل : لا تسکنوا إلی الذین ظلموا ، قال البیضاوي : لا تمیلوا إلیہم أدنی المیل ، فإن الرکون ہو المیل الیسیر کالتزیي بزیہم وتعظیم ذکرہم ۔ (۴/۴۳۰ ، کذا في حاشیۃ القونوي علی تفسیر البیضاوي :۱۰/۲۲۶) ما في ’’ سنن أبي داود ‘‘ : ’’ من تشبہ بقوم فہو منہم ‘‘ ۔ (ص/۵۵۹ ، کتاب اللباس) ما في ’’ مرقاۃ المفاتیح ‘‘ : أي من شبّہ نفسہ بالکفار مثلاً في اللباس وغیرہ ، أو بالفساق والفجار ، أو بأہل التصوف والصلحاء الأبرار ۔ (۸/۲۲۲) ما في ’’ الزواجر عن اقتراف الکبائر ‘‘ : قال مالک بن دینار رحمہ اللّٰہ تعالی : أوحی اللّٰہ تعالی إلی نبي من الأنبیاء ، أن قل لقومک : لا یدخلوا مداخل أعدائي ، ولا یلبسوا ملابس أعدائي ، ولا یرکبوا مراکب أعدائي ، ولا یطعموا مطاعم أعدائي ، فیکونوا أعدائي کما ہم أعدائي ‘‘ ۔ (۱/۲۵)=